Jamia al-Tirmidhi Hadith 998 (سنن الترمذي)

[998]إسنادہ حسن

مشکوۃ المصابیح (1739)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ أَبِيہِ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ لَمَّا جَاءَ نَعْيُ جَعْفَرٍ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ اصْنَعُوا لِأَہْلِ جَعْفَرٍ طَعَامًا فَإِنَّہُ قَدْ جَاءَہُمْ مَا يَشْغَلُہُمْ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ كَانَ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ يَسْتَحِبُّ أَنْ يُوَجَّہَ إِلَی أَہْلِ الْمَيِّتِ شَيْءٌ لِشُغْلِہِمْ بِالْمُصِيبَةِ وَہُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ قَالَ أَبُو عِيسَی وَجَعْفَرُ بْنُ خَالِدٍ ہُوَ ابْنُ سَارَةَ وَہُوَ ثِقَةٌ رَوَی عَنْہُ ابْنُ جُرَيْجٍ

عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: جب جعفرطیار کے مرنے کی خبرآئی ۱؎ تونبی اکرمﷺ نے فرمایا: جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا پکاؤ،اس لیے کہ آج ان کے پاس ایسی چیز آئی ہے جس میں وہ مشغول ہیں ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-یہ حدیث حسن صحیح ہے،۲-بعض اہل علم میت کے گھروالوں کے مصیبت میں پھنسے ہونے کی وجہ سے ان کے یہاں کچھ بھیجنے کومستحب قراردیتے ہیں۔یہی شافعی کابھی قول ہے،۳-جعفر بن خالد کے والد خالد سارہ کے بیٹے ہیں اور ثقہ ہیں۔ان سے ابن جریج نے روایت کی ہے۔