Sunan Abi Dawood Hadith 149 (سنن أبي داود)
[149]صحیح
صحیح مسلم (274 بعد ح 421)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِہَابٍ حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ زِيَادٍ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَاہُ الْمُغِيرَةَ يَقُولُ عَدَلَ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَأَنَا مَعَہُ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قَبْلَ الْفَجْرِ فَعَدَلْتُ مَعَہُ فَأَنَاخَ النَّبِيُّ ﷺ فَتَبَرَّزَ ثُمَّ جَاءَ فَسَكَبْتُ عَلَی يَدِہِ مِنْ الْإِدَاوَةِ فَغَسَلَ كَفَّيْہِ ثُمَّ غَسَلَ وَجْہَہُ ثُمَّ حَسَرَ عَنْ ذِرَاعَيْہِ فَضَاقَ كُمَّا جُبَّتِہِ فَأَدْخَلَ يَدَيْہِ فَأَخْرَجَہُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَہُمَا إِلَی الْمِرْفَقِ وَمَسَحَ بِرَأْسِہِ ثُمَّ تَوَضَّأَ عَلَی خُفَّيْہِ ثُمَّ رَكِبَ فَأَقْبَلْنَا نَسِيرُ حَتَّی نَجِدَ النَّاسَ فِي الصَّلَاةِ قَدْ قَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ فَصَلَّی بِہِمْ حِينَ كَانَ وَقْتُ الصَّلَاةِ وَوَجَدْنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَقَدْ رَكَعَ بِہِمْ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ فَقَامَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فَصَفَّ مَعَ الْمُسْلِمِينَ فَصَلَّی وَرَاءَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ الرَّكْعَةَ الثَّانِيَةَ ثُمَّ سَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَامَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فِي صَلَاتِہِ فَفَزِعَ الْمُسْلِمُونَ فَأَكْثَرُوا التَّسْبِيحَ لِأَنَّہُمْ سَبَقُوا النَّبِيَّ ﷺ بِالصَّلَاةِ فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللہِ ﷺ قَالَ لَہُمْ قَدْ أَصَبْتُمْ أَوْ قَدْ أَحْسَنْتُمْ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں غزوہ تبوک میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا۔نماز فجر سے پہلے ایک مقام پر آپ ﷺ راستے سے ایک جانب کو ہو گئے تو میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ مڑ گیا۔نبی کریم ﷺ نے اپنا اونٹ بٹھایا اور قضائے حاجت کے لیے چلے گئے۔واپس آئے تو میں نے لوٹے سے آپ ﷺ کے ہاتھ پر پانی ڈالا۔آپ ﷺ نے پہلے اپنے ہاتھ اور پھر چہرہ دھویا۔پھر آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ کو جبے کی آستینوں سے نکالنا چاہا مگر وہ تنگ تھیں،تو آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ واپس آستین میں ڈال لیے اور انہیں جبے کے نیچے سے نکالا اور انہیں کہنیوں تک دھویا،پھر آپ ﷺ نے اپنے سر کا مسح کیا،پھر اپنے موزوں پر مسح کیا،پھر آپ ﷺ سوار ہو گئے اور چل دیے حتیٰ کہ ہم نے لوگوں کو نماز میں پایا اور وہ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو (بطور امام) آگے کر چکے تھے۔انہوں نے نماز پڑھائی جب کہ نماز کا وقت ہو گیا تھا،ہم نے پایا کہ سیدنا عبدالرحمٰن انہیں نماز فجر کی ایک رکعت پڑھا چکے تھے۔رسول اللہ ﷺ مسلمانوں کے ساتھ صف میں کھڑے ہو گئے اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پیچھے دوسری رکعت پڑھی۔سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے (نماز مکمل ہونے پر) سلام پھیرا تو نبی کریم ﷺ اپنی نماز پوری کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔(یہ دیکھ کر) مسلمان گھبرا گئے اور بہت زیادہ تسبیح کہنے لگے،کیونکہ انہوں نے نماز میں نبی کریم ﷺ سے سبقت کی تھی۔جب رسول اللہ ﷺ نے سلام پھیرا تو فرمایا ’’تم لوگوں نے درست کیا۔‘‘ یا کہا ’’بہت اچھا کیا۔‘‘