Sunan Abi Dawood Hadith 158 (سنن أبي داود)
[158] إسنادہ ضعیف
ابن ماجہ (557) ببعض الإختلاف فی السند
قال الدار قطني:’’ھذا الإسناد لا یثبت …… عبد الرحمٰن ومحمد بن یزید وأیوب بن قطن مجہولون کلھم‘‘ (سنن دارقطنی:1/ 198،199 ح 755)
وقال النووي:’’اتفقوا علی ضعفہ واضطرابہ‘‘ (خلاصۃ الأحکام:1/ 130،131 ح 255)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ مَعِينٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَزِينٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ قَطَنٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ عِمَارَةَ قَالَ يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَكَانَ قَدْ صَلَّی مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ لِلْقِبْلَتَيْنِ أَنَّہُ قَالَ يَا رَسُولَ اللہِ أَمْسَحُ عَلَی الْخُفَّيْنِ قَالَ نَعَمْ قَالَ يَوْمًا قَالَ يَوْمًا قَالَ وَيَوْمَيْنِ قَالَ وَيَوْمَيْنِ قَالَ وَثَلَاثَةً قَالَ نَعَمْ وَمَا شِئْتَ قَالَ أَبُو دَاوُد رَوَاہُ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ الْمِصْرِيُّ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَزِينٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسِيٍّ عَنْ أُبَيِّ بْنِ عِمَارَةَ قَالَ فِيہِ حَتَّی بَلَغَ سَبْعًا قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ نَعَمْ وَمَا بَدَا لَكَ قَالَ أَبُو دَاوُد وَقَدْ اخْتُلِفَ فِي إِسْنَادِہِ وَلَيْسَ ہُوَ بِالْقَوِيِّ وَرَوَاہُ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ وَيَحْيَی بْنُ إِسْحَقَ السَّيْلَحِينِيُّ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَيَّوبَ وَقَدْ اخْتُلِفَ فِي إِسْنَادِہِ
سیدنا ابی بن عمارہ رضی اللہ عنہ جن کے بارے میں یحییٰ بن ایوب کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی معیت میں دونوں قبلوں کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی ہے۔ان سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں موزوں پر مسح کر لیا کروں؟ فرمایا ’’ہاں۔‘‘ انہوں نے کہا (کیا) ایک دن؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’(ہاں) ایک دن۔‘‘ انہوں نے کہا: کیا دو دن (بھی؟) فرمایا ’’ہاں دو دن (بھی)۔‘‘ کہا: کیا تین دن (بھی؟) فرمایا ’’ہاں! اور جو تو چاہے۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس روایت کو ابن ابی مریم مصری نے (بسند) ((عن یحیی بن أیوب عن عبد الرحمن بن رزین عن محمد بن یزید بن أبی زیاد عن عبادۃ بن نسی عن أبی بن عمارۃ)) سے روایت کیا ہے۔اس میں ہے کہ (دنوں کا اضافہ) سات دنوں تک پہنچا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جو تیری سمجھ میں آئے۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس کی اسناد میں اختلاف ہے اور یحییٰ بن ایوب قوی نہیں ہے۔اس حدیث کو ابن ابی مریم اور یحییٰ بن اسحاق سیلحینی اور یحییٰ بن ایوب سے روایت کیا ہے اور اس کی اسناد میں اختلاف کیا گیا ہے۔