Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 182 (سنن أبي داود)

[182]إسنادہ صحیح

وحقق ابن حبان وغیرہ بأنہ حدیث منسوخ مشکوۃ المصابیح (320)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو الْحَنَفِيُّ،حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ بَدْرٍ،عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ،عَنْ أَبِيہِ قَالَ: قَدِمْنَا عَلَی نَبِيِّ اللہِ ﷺ فَجَاءَ رَجُلٌ-كَأَنَّہُ بَدَوِيٌّ-،فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللہِ! مَا تَرَی فِي مَسِّ الرَّجُلِ ذَكَرَہُ بَعْدَ مَا يَتَوَضَّأُ؟ فَقَالَ: ہَلْ ہُوَ إِلَّا مُضْغَةٌ مِنْہُ-أَوْ قَالَ: بَضْعَةٌ مِنْہُ-؟. قَالَ: أَبُو دَاوُد: رَوَاہُ ہِشَامُ بْنُ حَسَّانَ وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَشُعْبَةُ وَابْنُ عُيَيْنَةَ وَجَرِيرٌ الرَّازِيُّ،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَابِرٍ،عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ.

قرآن /قرآن جناب قیس بن طلق اپنے والد (طلق رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ ہم اللہ کے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے،تو ایک آدمی آیا وہ بظاہر بدوی (دیہاتی) تھا،کہنے لگا: اے اللہ کے نبی! آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جس نے وضو کے بعد اپنے ذکر کو ہاتھ لگا لیا ہو؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’یہ اس کے جسم کا ایک ٹکڑا ہی تو ہے!۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس روایت کو ہشام بن حسان،سفیان ثوری،شعبہ،ابن عیینہ اور جریر رازی نے محمد بن جابر سے،انہوں نے قیس بن طلق سے روایت کیا ہے۔