Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 1885 (سنن أبي داود)

[1885]إسنادہ صحیح

ابو عاصم الغنوی: قال ابن معین فیہ: ’’ثقۃ‘‘ (الجرح والتعدیل: 9/ 413، 414 وسندہ صحیح)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ مُوسَی بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الْغَنَوِيُّ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَدْ رَمَلَ بِالْبَيْتِ وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ قَالَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا قُلْتُ وَمَا صَدَقُوا وَمَا كَذَبُوا قَالَ صَدَقُوا قَدْ رَمَلَ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَكَذَبُوا لَيْسَ بِسُنَّةٍ إِنَّ قُرَيْشًا قَالَتْ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ دَعُوا مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَہُ حَتَّی يَمُوتُوا مَوْتَ النَّغَفِ فَلَمَّا صَالَحُوہُ عَلَی أَنْ يَجِيئُوا مِنْ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَيُقِيمُوا بِمَكَّةَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَقَدِمَ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَالْمُشْرِكُونَ مِنْ قِبَلِ قُعَيْقِعَانَ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ لِأَصْحَابِہِ ارْمُلُوا بِالْبَيْتِ ثَلَاثًا وَلَيْسَ بِسُنَّةٍ قُلْتُ يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَلَی بَعِيرِہِ وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ فَقَالَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا قُلْتُ مَا صَدَقُوا وَمَا كَذَبُوا قَالَ صَدَقُوا قَدْ طَافَ رَسُولُ اللہِ ﷺ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَلَی بَعِيرِہِ وَكَذَبُوا لَيْسَ بِسُنَّةٍ كَانَ النَّاسُ لَا يُدْفَعُونَ عَنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ وَلَا يُصْرَفُونَ عَنْہُ فَطَافَ عَلَی بَعِيرٍ لِيَسْمَعُوا كَلَامَہُ وَلِيَرَوْا مَكَانَہُ وَلَا تَنَالُہُ أَيْدِيہِمْ

سیدنا ابوالطفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ کی قوم کا خیال ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیت اللہ میں رمل کیا تھا اور یہ کہ یہ سنت ہے۔تو وہ بولے کہ انہوں نے سچ کہا ہے اور کچھ غلط۔میں نے کہا: (کیا مطلب) کیا سچ کہا اور کیا غلط؟ فرمایا: یہ تو سچ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رمل کیا تھا،مگر سنت کہنا غلط ہے۔درحقیقت قریش نے حدیبیہ کے زمانے میں کہا تھا کہ محمد (ﷺ) اور ان کے اصحاب کو چھوڑ دو حتیٰ کہ وہ خود ہی جانوروں کی موت مر جائیں گے۔(جیسے اونٹوں کی ناکوں میں کیڑے پڑ جاتے ہیں اور پھر وہ ہلاک ہو جاتے ہیں۔) پھر جب انہوں نے آپ ﷺ سے صلح کر لی کہ یہ لوگ اگلے سال آئیں اور مکہ میں تین دن ٹھہریں،چنانچہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو مشرکین کوہ قعیقعان کی جانب (سے دیکھ رہے) تھے۔تب آپ ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا ’’بیت اللہ کے گرد تین چکر رمل کرو۔“ (یعنی کندھے ہلا ہلا کر آہستہ آہستہ دوڑو) اور یہ کوئی سنت نہیں ہے۔میں نے کہا: آپ کی قوم کا خیال ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صفا اور مروہ کی سعی اونٹ پر سوار ہو کر کی تھی اور یہ بھی سنت ہے۔تو وہ بولے کہ انہوں نے سچ کہا ہے اور کچھ غلط۔میں نے کہا: کیا سچ ہے اور کیا غلط؟ فرمایا: سچ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صفا اور مروہ کی سعی اونٹ پر کی تھی مگر یہ سنت ہو،غلط ہے۔(دراصل) لوگوں کو رسول اللہ ﷺ سے دور نہ کیا جاتا تھا اور نہ ہٹایا جاتا تھا (جب کہ وہ آپ ﷺ پر ہجوم کیے ہوئے تھے) تو آپ ﷺ نے اونٹ پر سوار ہو کر سعی کی تاکہ وہ آپ ﷺ کی بات سن سکیں،آپ ﷺ کو دیکھ سکیں اور ان کے ہاتھ آپ ﷺ تک نہ پہنچ پائیں۔

قال معاذ علی زئی: وروی لہ ضیاء المقدسی فی الاحادیث المختارۃ (11/ 86 ح 80،81) وقال الہیثمی: ’’وھو ثقۃ‘‘ (مجمع الزوائد: 13759) وقال ابی رحمہ اللہ: رواہ مسلم (1264) بسند آخر عن أبي الطفیل بہ