Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 1886 (سنن أبي داود)

[1886]صحیح

صحیح بخاری (1602) صحیح مسلم (1266)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّہُ حَدَّثَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللہِ ﷺ مَكَّةَ وَقَدْ وَہَنَتْہُمْ حُمَّی يَثْرِبَ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ إِنَّہُ يَقْدَمُ عَلَيْكُمْ قَوْمٌ قَدْ وَہَنَتْہُمْ الْحُمَّی وَلَقُوا مِنْہَا شَرًّا فَأَطْلَعَ اللہُ سُبْحَانَہُ نَبِيَّہُ ﷺ عَلَی مَا قَالُوہُ فَأَمَرَہُمْ أَنْ يَرْمُلُوا الْأَشْوَاطَ الثَّلَاثَةَ وَأَنْ يَمْشُوا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ فَلَمَّا رَأَوْہُمْ رَمَلُوا قَالُوا ہَؤُلَاءِ الَّذِينَ ذَكَرْتُمْ أَنَّ الْحُمَّی قَدْ وَہَنَتْہُمْ ہَؤُلَاءِ أَجْلَدُ مِنَّا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَلَمْ يَأْمُرْہُمْ أَنْ يَرْمُلُوا الْأَشْوَاطَ كُلَّہَا إِلَّا إِبْقَاءً عَلَيْہِمْ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ مکہ میں تشریف لائے جبکہ ان لوگوں کو یثرب (مدینہ کا سابقہ نام) کے بخار نے کمزور کر دیا تھا تو مشرکین نے کہا: تمہارے پاس ایک ایسی قوم آ رہی ہے جسے بخار نے نڈھال کر دیا ہے اور انہیں اس سے بڑی اذیت پہنچی ہے۔اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی اس بات سے جو انہوں نے کہی،اپنے نبی کریم ﷺ کو مطلع فرما دیا۔پس آپ نے انہیں حکم دیا کہ تین چکروں میں رمل کریں اور رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان عام رفتار سے چلیں۔سو جب انہوں نے ان لوگوں کہ رمل کرتے دیکھا (کہ بڑی پھرتی سے طواف کر رہے ہیں) تو کہنے لگے: انہی لوگوں کے بارے میں تم کہتے ہو کہ ان کو بخار نے کمزور کر دیا ہے،یہ تو ہم سے زیادہ طاقتور ہیں۔سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: آپ ﷺ نے صحابہ پر شفقت فرماتے ہوئے طواف کے سب چکروں میں رمل کا حکم نہیں دیا تھا۔