Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 1887 (سنن أبي داود)

[1887]إسنادہ حسن

أخرجہ ابن ماجہ (2952 وسندہ حسن)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيہِ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ فِيمَ الرَّمَلَانُ الْيَوْمَ وَالْكَشْفُ عَنْ الْمَنَاكِبِ وَقَدْ أَطَّأَ اللہُ الْإِسْلَامَ وَنَفَی الْكُفْرَ وَأَہْلَہُ مَعَ ذَلِكَ لَا نَدَعُ شَيْئًا كُنَّا نَفْعَلُہُ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ ﷺ

جناب اسلم عدوی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا فرماتے تھے: آج یہ کندھے ہلا ہلا کر دوڑنا اور ان کا ننگا کرنا کیوں ہے؟ (اس کی کوئی ضرورت تو نہیں ہے) حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو قوی اور مضبوط بنا دیا ہے اور کفر و کفار کو یہاں سے نکال باہر کیا ہے۔اس کے باوجود ہم یہ عمل نہیں چھوڑ سکتے جو رسول اللہ ﷺ کے دور میں کیا کرتے تھے۔