Sunan Abi Dawood Hadith 1889 (سنن أبي داود)
[1889]إسنادہ حسن
صححہ ابن خزیمۃ (2707 وسندہ حسن) ورواہ ابن ماجہ (2953 وسندہ حسن)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ اضْطَبَعَ فَاسْتَلَمَ وَكَبَّرَ ثُمَّ رَمَلَ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ وَكَانُوا إِذَا بَلَغُوا الرُّكْنَ الْيَمَانِيَ وَتَغَيَّبُوا مِنْ قُرَيْشٍ مَشَوْا ثُمَّ يَطْلُعُونَ عَلَيْہِمْ يَرْمُلُونَ تَقُولُ قُرَيْشٌ كَأَنَّہُمْ الْغِزْلَانُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَكَانَتْ سُنَّةً
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اضطباع کیا۔(اپنی چادر کو اپنی دائیں بغل کے نیچے سے نکال کر بائیں کندھے پر ڈال لیا۔) پھر (حجر اسود کا) استلام کیا اور ((اللہ اکبر)) کہا۔پھر تین چکروں میں رمل کیا۔صحابہ جب رکن یمانی کے پاس پہنچتے اور قریش کی نظروں سے اوجھل ہو جاتے تو عام رفتار سے چلنے لگتے۔پھر جب ان کے سامنے آتے تو آہستہ آہستہ دوڑنے لگتے۔قریش کہنے لگے: یہ تو گویا ہرن ہیں۔سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا (تب سے) یہ سنت ہے۔