Sunan Abi Dawood Hadith 1901 (سنن أبي داود)
[1901]صحیح
صحیح بخاری (1790) صحیح مسلم (1277)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيہِ أَنَّہُ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ حَدِيثُ السِّنِّ أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللہِ تَعَالَی قرآن إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللہ /قرآن ِ فَمَا أَرَی عَلَی أَحَدٍ شَيْئًا أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِہِمَا قَالَتْ عَائِشَةُ كَلَّا لَوْ كَانَ كَمَا تَقُولُ كَانَتْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْہِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِہِمَا إِنَّمَا أُنْزِلَتْ ہَذِہِ الْآيَةُ فِي الْأَنْصَارِ كَانُوا يُہِلُّونَ لِمَنَاةَ وَكَانَتْ مَنَاةُ حَذْوَ قُدَيْدٍ وَكَانُوا يَتَحَرَّجُونَ أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ سَأَلُوا رَسُولَ اللہِ ﷺ عَنْ ذَلِكَ فَأَنْزَلَ اللہُ تَعَالَ قرآن ی إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ ال /قرآن لَّہِ
جناب عروہ (بن زبیر) کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اور میں ان دنوں نوعمر تھا: فرمائیے اللہ تعالیٰ کے فرمان قرآن ((إن الصفا والمروۃ من شعائر اللہ)) /قرآن سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی ان کے درمیان سعی نہ کرتے تو اس پر کوئی حرج نہیں! عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ہرگز نہیں،اگر بات ایسے ہوتی جیسے تم کہہ رہے ہو تو آیت کریمہ یوں ہوتی ((فلا جناح علیہ أن لا یطوف بہما)) ’’اگر وہ ان کی سعی نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔‘‘ دراصل یہ آیت انصار کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔یہ لوگ منات (بت) کے قصد سے احرام باندھا کرتے تھے اور یہ بت مقام قدید کے بالمقابل نصب تھا۔اور پھر یہ لوگ صفا مروہ کی سعی میں حرج سمجھتے تھے۔جب اسلام آیا تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں سوال کیا تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی قرآن ((إن الصفا والمروۃ من شعائر اللہ)) /قرآن۔