Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 1920 (سنن أبي داود)

[1920] إسنادہ ضعیف

الأعمش والحکم بن عتیبۃ مدلسان وعنعنا

وحدیث البخاري (1678) ومسلم (1293) یغني عنہ

انوار الصحیفہ ص 74

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ بَيَانٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ الْمَعْنَی عَنْ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَفَاضَ رَسُولُ اللہِ ﷺ مِنْ عَرَفَةَ وَعَلَيْہِ السَّكِينَةُ وَرَدِيفُہُ أُسَامَةُ وَقَالَ أَيُّہَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِإِيجَافِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ قَالَ فَمَا رَأَيْتُہَا رَافِعَةً يَدَيْہَا عَادِيَةً حَتَّی أَتَی جَمْعًا زَادَ وَہْبٌ ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ الْعَبَّاسِ وَقَالَ أَيُّہَا النَّاسُ إِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِإِيجَافِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ فَعَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ قَالَ فَمَا رَأَيْتُہَا رَافِعَةً يَدَيْہَا حَتَّی أَتَی مِنًی

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عرفات سے روانہ ہوئے تو بڑے آرام اور سکون سے چلے۔اسامہ رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔آپ نے فرمایا ’’لوگو! آرام سے چلو،نیکی گھوڑے اور اونٹ دوڑانے میں نہیں۔‘‘ سو میں نے دیکھا کہ (کوئی بھی سواری) اپنے دونوں (اگلے) پاؤں اٹھا کر نہ دوڑ رہی تھی حتیٰ کہ آپ مزدلفہ پہنچ گئے۔وہب نے مزید کہا: پھر آپ نے سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے بٹھا لیا اور فرمایا ’’لوگو! نیکی گھوڑے اور اونٹ دوڑانے میں نہیں،سکون سے چلو۔‘‘ اور میں نے نہیں دیکھا کہ کوئی سواری اپنے دونوں پاؤں اٹھا کر چل رہی ہو۔حتیٰ کہ آپ منیٰ میں آ گئے۔