Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 1921 (سنن أبي داود)

[1921]صحیح

صحیح مسلم (1280)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُہَيْرٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ وَہَذَا لَفْظُ حَدِيثِ زُہَيْرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِيمُ بْنُ عُقْبَةَ أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ أَنَّہُ سَأَلَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ قُلْتُ أَخْبِرْنِي كَيْفَ فَعَلْتُمْ أَوْ صَنَعْتُمْ عَشِيَّةَ رَدِفْتَ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ جِئْنَا الشِّعْبَ الَّذِي يُنِيخُ النَّاسُ فِيہِ لِلْمُعَرَّسِ فَأَنَاخَ رَسُولُ اللہِ ﷺ نَاقَتَہُ ثُمَّ بَالَ وَمَا قَالَ زُہَيْرٌ أَہْرَاقَ الْمَاءَ ثُمَّ دَعَا بِالْوَضُوءِ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا لَيْسَ بِالْبَالِغِ جِدًّا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللہِ الصَّلَاةُ قَالَ الصَّلَاةُ أَمَامَكَ قَالَ فَرَكِبَ حَتَّی قَدِمْنَا الْمُزْدَلِفَةَ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَنَاخَ النَّاسُ فِي مَنَازِلِہِمْ وَلَمْ يَحِلُّوا حَتَّی أَقَامَ الْعِشَاءَ وَصَلَّی ثُمَّ حَلَّ النَّاسُ زَادَ مُحَمَّدٌ فِي حَدِيثِہِ قَالَ قُلْتُ كَيْفَ فَعَلْتُمْ حِينَ أَصْبَحْتُمْ قَالَ رَدِفَہُ الْفَضْلُ وَانْطَلَقْتُ أَنَا فِي سُبَّاقِ قُرَيْشٍ عَلَی رِجْلَيَّ

جناب کریب بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے کہا: مجھے یہ بتائیں کہ اس شام جب آپ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سوار تھے،آپ لوگوں نے کیسے کیا؟ انھوں نے بتایا کہ ہم اس گھاٹی میں آئے جس میں لوگ اپنی سواریاں بٹھاتے ہیں۔وہ جگہ معرس کہلاتی ہے۔رسول اللہ ﷺ نے اپنی اونٹنی بٹھائی،پھر پیشاب کیا۔اسامہ رضی اللہ عنہ نے ((أہراق الماء)) کے لفظ استعمال نہیں کیے۔(یعنی ’’پانی بہایا‘‘ نہیں کہا) پھر آپ نے پانی طلب کیا اور وضو فرمایا جس میں کوئی مبالغہ نہ تھا۔(یعنی ہلکا وضو کیا،اعضاء کو ایک دو بار دھویا) میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! نماز؟ آپ نے فرمایا ’’نماز تمہارے آگے ہے۔‘‘ (آگے چل کر پڑھیں گے) پھر آپ سوار ہو گئے حتیٰ کہ ہم مزدلفہ پہنچ گئے۔پھر آپ نے مغرب کی نماز پڑھائی۔پھر لوگوں نے سواریوں کو اپنے اپنے پڑاؤ پر بٹھایا مگر ان کے (پالان اور کجاوے) نہیں کھولے حتیٰ کہ عشاء کی اقامت کہلوائی اور نماز پڑھائی۔پھر لوگوں نے (اپنی سواریوں کو) کھولا۔محمد بن کثیر نے اپنی روایت میں مزید کہا: میں نے پوچھا: جب تم لوگوں نے صبح کی،تو کیسے کیا تھا؟ انہوں نے کہا: فضل رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے سوار ہوئے اور میں قریش کے ان افراد کے ساتھ پیدل چلا گیا جو دیگر لوگوں سے پہلے روانہ ہوئے تھے۔