Sunan Abi Dawood Hadith 1922 (سنن أبي داود)
[1922] إسنادہ ضعیف
ترمذی (885) وانظر الحدیث الآتي (1935)
سفیان الثوري مدلس وعنعن
وحدیث أحمد (1/ 76) سندہ حسن وھو یغني عنہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيہِ عَنْ عُبَيْدِ اللہِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ ثُمَّ أَرْدَفَ أُسَامَةَ فَجَعَلَ يُعْنِقُ عَلَی نَاقَتِہِ وَالنَّاسُ يَضْرِبُونَ الْإِبِلَ يَمِينًا وَشِمَالًا لَا يَلْتَفِتُ إِلَيْہِمْ وَيَقُولُ السَّكِينَةَ أَيُّہَا النَّاسُ وَدَفَعَ حِينَ غَابَتْ الشَّمْسُ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: پھر آپ ﷺ نے اسامہ رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے سوار کر لیا۔پھر آپ ﷺ اپنی اونٹنی پر درمیانی چال (عنق) سے روانہ ہوئے اور لوگ دائیں بائیں اونٹوں کو پیٹ رہے تھے۔آپ ﷺ ان کی طرف متوجہ نہ ہوتے تھے اور فرما رہے تھے ’’لوگو! سکون کے ساتھ!‘‘ اور آپ ﷺ عرفات سے سورج غروب ہونے کے بعد روانہ ہوئے۔