Sunan Abi Dawood Hadith 1933 (سنن أبي داود)
[1933]إسنادہ صحیح
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ أَبِيہِ قَالَ أَقْبَلْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَی الْمُزْدَلِفَةِ فَلَمْ يَكُنْ يَفْتُرُ مِنْ التَّكْبِيرِ وَالتَّہْلِيلِ حَتَّی أَتَيْنَا الْمُزْدَلِفَةَ فَأَذَّنَ وَأَقَامَ أَوْ أَمَرَ إِنْسَانًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ فَصَلَّی بِنَا الْمَغْرِبَ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا فَقَالَ الصَّلَاةُ فَصَلَّی بِنَا الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ دَعَا بِعَشَائِہِ قَالَ وَأَخْبَرَنِي عِلَاجُ بْنُ عَمْرٍو بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ فَقِيلَ لِابْنِ عُمَرَ فِي ذَلِكَ فَقَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ ہَكَذَا
اشعت بن سلیم اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ عرفات سے مزدلفہ آیا۔انہوں نے اس دوران میں تکبیر اور تہلیل کو نہیں چھوڑا حتیٰ کہ ہم مزدلفہ پہنچ گئے۔پھر اذان اور اقامت کہی یا کسی کو حکم دیا کہ اذان اور اقامت کہے ‘ پھر ہمیں مغرب کی تین رکعتیں پڑھائیں ‘ پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: نماز (عشاء کی بھی) پس ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی،دو رکعتیں۔پھر اپنا رات کا کھانا طلب کیا۔(اشعت بن سلیم نے) کہا: مجھے علاج بن عمرو نے اسی طرح بیان کیا جیسے کہ میرے والد (سلیم بن اسود) نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا۔سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایسے ہی پڑھی تھی۔