Sunan Abi Dawood Hadith 1949 (سنن أبي داود)
[1949]إسنادہ صحیح
أخرجہ الترمذي (889 وسندہ صحیح) وصححہ ابن خزیمۃ (2823 وسندہ حسن) مشکوۃ المصابیح (2714)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَطَاءٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ الدِّيلِيِّ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ وَہُوَ بِعَرَفَةَ فَجَاءَ نَاسٌ أَوْ نَفَرٌ مِنْ أَہْلِ نَجْدٍ فَأَمَرُوا رَجُلًا فَنَادَی رَسُولُ اللہِ ﷺ كَيْفَ الْحَجُّ فَأَمَرَ رَسُولُ اللہِ ﷺ رَجُلًا فَنَادَی الْحَجُّ الْحَجُّ يَوْمُ عَرَفَةَ مَنْ جَاءَ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ مِنْ لَيْلَةِ جَمْعٍ فَتَمَّ حَجُّہُ أَيَّامُ مِنًی ثَلَاثَةٌ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْہِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْہِ قَالَ ثُمَّ أَرْدَفَ رَجُلًا خَلْفَہُ فَجَعَلَ يُنَادِي بِذَلِكَ قَالَ أَبُو دَاوُد وَكَذَلِكَ رَوَاہُ مِہْرَانُ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ الْحَجُّ الْحَجُّ مَرَّتَيْنِ وَرَوَاہُ يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ الْحَجُّ مَرَّةً
جناب عبدالرحمٰن بن یعمر الدیلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جب کہ آپ میدان عرفات میں تھے۔اسی دوران میں نجد کی طرف کے کچھ لوگ آئے اور انہوں نے ایک شخص کو کہا تو اس نے پکار کر کہا: اے اﷲ کے رسول! حج کیسے ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے (بھی) ایک شخص کو حکم دیا اور اس نے پکار کر کہا: ’’حج،حج عرفات کا دن ہے۔جو شخص مزدلفہ کی رات میں فجر کی نماز سے پہلے پہلے یہاں آ گیا اس کا حج پورا ہو گیا۔منیٰ کے دن تین ہیں۔جو شخص دو دن بعد جلدی سے واپس ہو جائے اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو تاخیر کرے (تیسرا دن بھی وقوف کرے) تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں۔‘‘ پھر آپ نے اپنے پیچھے ایک شخص کو سوار کرا لیا جو اس بات کی منادی کرنے لگا۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مہران نے سفیان سے ایسے ہی روایت کیا ہے ((الحج الحج)) (یعنی) دو بار۔جبکہ یحییٰ بن سعید قطان نے سفیان سے یہ لفظ ((الحج)) ایک بار بیان کیا ہے۔