Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 1966 (سنن أبي داود)

[1966] إسنادہ ضعیف

ابن ماجہ (3028،3031)

یزید بن أبي زیاد ضعیف

والجمھور علی تضعیف حدیثہ (ھدي الساري ص 459)

انوار الصحیفہ ص 75، 76

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا إِبْرَاہِيمُ بْنُ مَہْدِيٍّ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ مُسْہِرٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ عَنْ أُمِّہِ قَالَتْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَرْمِي الْجَمْرَةَ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي وَہُوَ رَاكِبٌ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ وَرَجُلٌ مِنْ خَلْفِہِ يَسْتُرُہُ فَسَأَلْتُ عَنْ الرَّجُلِ فَقَالُوا الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ وَازْدَحَمَ النَّاسُ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ يَا أَيُّہَا النَّاسُ لَا يَقْتُلْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا وَإِذَا رَمَيْتُمْ الْجَمْرَةَ فَارْمُوا بِمِثْلِ حَصَی الْخَذْفِ

سلیمان بن عمرو بن الاحوص کی والدہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو وادی کے درمیان سے جمرہ کو کنکریاں مارتے دیکھا جب کہ آپ سواری پر تھے۔آپ ہر کنکری کے ساتھ ((اللہ اکبر)) کہتے تھے۔ایک شخص آپ کے پیچھے سے آپ کو چھپائے ہوئے تھا۔میں نے اس شخص کے متعلق پوچھا تو کہا: فضل بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں۔لوگوں نے بہت بھیڑ کر دی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’لوگو! ایک دوسرے کو قتل مت کرو۔اور جب تم جمرے کو کنکریاں مارو تو چھوٹی چھوٹی مارو۔‘‘