Sunan Abi Dawood Hadith 1972 (سنن أبي داود)
[1972]صحیح
صحیح بخاری (1746)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّہْرِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ وَبَرَةَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ مَتَی أَرْمِي الْجِمَارَ قَالَ إِذَا رَمَی إِمَامُكَ فَارْمِ فَأَعَدْتُ عَلَيْہِ الْمَسْأَلَةَ فَقَالَ كُنَّا نَتَحَيَّنُ زَوَالَ الشَّمْسِ فَإِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ رَمَيْنَا
وبرہ(بن عبدالرحمٰن سلمی) کہتے ہیں،میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ میں کس وقت جمرات کو کنکریاں ماروں؟ انہوں نے کہا: جب تمہارا امام مارے تم بھی مار لو۔میں نے اپنا سوال دہرایا تو بولے ہم سورج ڈھلنے کا انتظار کیا کرتے تھے۔جب سورج ڈھل جاتا تو رمی کرتے تھے( قربانی والے دن کے بعد کے ایام میں)