Sunan Abi Dawood Hadith 1973 (سنن أبي داود)
[1973]حسن
محمد بن إسحاق صرح بالسماع عند ابن حبان (1013) مشکوۃ المصابیح (2676)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ وَعَبْدُ اللہِ بْنُ سَعِيدٍ الْمَعْنَی قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيہِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَفَاضَ رَسُولُ اللہِ ﷺ مِنْ آخِرِ يَوْمِہِ حِينَ صَلَّی الظُّہْرَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَی مِنًی فَمَكَثَ بِہَا لَيَالِيَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ يَرْمِي الْجَمْرَةَ إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ كُلُّ جَمْرَةٍ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ وَيَقِفُ عِنْدَ الْأُولَی وَالثَّانِيَةِ فَيُطِيلُ الْقِيَامَ وَيَتَضَرَّعُ وَيَرْمِي الثَّالِثَةَ وَلَا يَقِفُ عِنْدَہَا
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (دس تاریخ کو قربانی والے دن) ظہر پڑھ لینے کے بعد دن کے آخری حصے میں طواف افاضہ کیا۔پھر آپ منیٰ لوٹ آئے۔اور ایام تشریق کی راتیں یہیں ٹھہرے رہے۔سورج ڈھلنے کے بعد جمرات کو کنکریاں مارتے تھے۔ہر جمرے کو سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے ساتھ ((اللہ اکبر)) کہتے۔پہلے اور دوسرے جمرے کے پاس کافی لمبی دیر رکتے اور اپنی عاجزی اور تضرع کا اظہار کرتے (دعائیں کرتے) پھر تیسرے جمرے کو کنکریاں مارتے مگر اس کے پاس نہیں رکتے تھے۔