Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 1981 (سنن أبي داود)

[1981]صحیح

صحیح مسلم (1305)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا حَفْصٌ عَنْ ہِشَامٍ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ رَمَی جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَی مَنْزِلِہِ بِمِنًی فَدَعَا بِذِبْحٍ فَذُبِحَ ثُمَّ دَعَا بِالْحَلَّاقِ فَأَخَذَ بِشِقِّ رَأْسِہِ الْأَيْمَنِ فَحَلَقَہُ فَجَعَلَ يَقْسِمُ بَيْنَ مَنْ يَلِيہِ الشَّعْرَةَ وَالشَّعْرَتَيْنِ ثُمَّ أَخَذَ بِشِقِّ رَأْسِہِ الْأَيْسَرِ فَحَلَقَہُ ثُمَّ قَالَ ہَا ہُنَا أَبُو طَلْحَةَ فَدَفَعَہُ إِلَی أَبِي طَلْحَةَ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی والے دن جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں،پھر منیٰ میں اپنی منزل پر تشریف لائے،پھر اپنی قربانی طلب کی اور اسے ذبح کیا،پھر حجام کو بلوایا اور اس نے آپ کے سر کے دائیں جانب کو لیا اور اسے مونڈا۔تو آپ نے اپنے پاس والوں کو ایک ایک دو دو بال تقسیم کر دیے۔پھر اس نے بائیں جانب کو لیا اور اسے مونڈا تو آپ نے فرمایا ’’ابوطلحہ یہاں ہے؟‘‘ چنانچہ وہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو دے دیے۔