Sunan Abi Dawood Hadith 1989 (سنن أبي داود)
[1989] إسنادہ ضعیف
ابن إسحاق عنعن
وأصل الحدیث صحیح،رواہ الترمذي (935) بلفظ: ((عمرۃ في رمضان تعدل حجۃ))
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَہْبِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ عِيسَی بْنِ مَعْقَلِ بْنِ أُمِّ مَعْقَلٍ الْأَسَدِيِّ أَسَدِ خُزَيْمَةَ حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ سَلَامٍ عَنْ جَدَّتِہِ أُمِّ مَعْقَلٍ قَالَتْ لَمَّا حَجَّ رَسُولُ اللہِ ﷺ حَجَّةَ الْوَدَاعِ وَكَانَ لَنَا جَمَلٌ فَجَعَلَہُ أَبُو مَعْقِلٍ فِي سَبِيلِ اللہِ وَأَصَابَنَا مَرَضٌ وَہَلَكَ أَبُو مَعْقِلٍ وَخَرَجَ النَّبِيُّ ﷺ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ حَجِّہِ جِئْتُہُ فَقَالَ يَا أُمَّ مَعْقِلٍ مَا مَنَعَكِ أَنْ تَخْرُجِي مَعَنَا قَالَتْ لَقَدْ تَہَيَّأْنَا فَہَلَكَ أَبُو مَعْقِلٍ وَكَانَ لَنَا جَمَلٌ ہُوَ الَّذِي نَحُجُّ عَلَيْہِ فَأَوْصَی بِہِ أَبُو مَعْقِلٍ فِي سَبِيلِ اللہِ قَالَ فَہَلَّا خَرَجْتِ عَلَيْہِ فَإِنَّ الْحَجَّ فِي سَبِيلِ اللہِ فَأَمَّا إِذْ فَاتَتْكِ ہَذِہِ الْحَجَّةُ مَعَنَا فَاعْتَمِرِي فِي رَمَضَانَ فَإِنَّہَا كَحَجَّةٍ فَكَانَتْ تَقُولُ الْحَجُّ حَجَّةٌ وَالْعُمْرَةُ عُمْرَةٌ وَقَدْ قَالَ ہَذَا لِي رَسُولُ اللہِ ﷺ مَا أَدْرِي أَلِيَ خَاصَّةً
سیدہ ام معقل رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے حجتہ الوداع کیا تو ہمارے پاس ایک ہی اونٹ تھا۔ابومعقل رضی اللہ عنہ نے اس کو جہاد فی سبیل اللہ کے لیے وقف کر دیا تھا۔ہمیں بیماری نے آ لیا اور ابو معقل فوت ہو گئے۔اور نبی کریم ﷺ تشریف لے گئے۔جب آپ ﷺ اپنے حج سے فارغ ہو کر آئے تو میں حاضر خدمت ہوئی۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’اے ام معقل! کیا مانع تھا کہ تو ہمارے ساتھ حج کے لیے نہیں گئی؟‘‘ اس نے کہا: ہم تو تیار تھے مگر ابو معقل فوت ہو گئے،ہمارا ایک ہی اونٹ تھا جس پر ہمیں حج کرنا تھا،تو ابومعقل نے اس کے بارے میں وصیت کر دی کہ یہ جہاد فی سبیل اللہ کے لیے وقف ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’تو اسی پر کیوں نہ چل دی؟ بلاشبہ حج ’’فی سبیل اللہ‘‘ ہی ہے۔خیر جب تم سے ہمارے ساتھ یہ حج کرنا فوت ہو گیا ہے تو رمضان میں عمرہ کرنا،بلاشبہ یہ حج کی مانند ہے۔‘‘ چنانچہ وہ کہا کرتی تھیں کہ حج،حج ہے اور عمرہ،عمرہ ہے۔اور رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے یہ فرمایا تھا،معلوم نہیں یہ بات میرے لیے خاص تھی (یا امت کے لیے عام)۔