Sunan Abi Dawood Hadith 2208 (سنن أبي داود)

[2208] إسنادہ ضعیف

ترمذی (1177) ابن ماجہ (2051)

الزبیر بن سعید: لین الحدیث (تقریب: 1995) وفی التحریر: ’’بل ضعیف متفق علی تضعیفہ‘‘

انوار الصحیفہ ص 83

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ،حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ جَدِّہِ أَنَّہُ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ الْبَتَّةَ،فَأَتَی رَسُولُ اللہِ ﷺ،فَقَالَ: مَا أَرَدْتَ؟،قَالَ: وَاحِدَةً! قَالَ: آللہِ؟،قَالَ: آللہِ،قَالَ: ہُوَ عَلَی مَا أَرَدْتَ. قَالَ أَبو دَاود: وَہَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَنَّ رُكَانَةَ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ ثَلَاثًا لِأَنَّہُمْ أَہْلُ بَيْتِہِ وَہُمْ أَعْلَمُ بِہِ وَحَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ رَوَاہُ،عَنْ بَعْضِ بَنِي أَبِي رَافِعٍ،عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.

عبداللہ بن علی بن یزید بن رکانہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیوی کو بتہ طلاق دے دی تھی۔پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو آپ نے پوچھا ’’تم نے کیا ارادہ کیا تھا؟‘‘ اس نے کہا: ایک کا۔آپ نے کہا: ’’اللہ کی قسم سے کہتے ہو؟‘‘ کہا: اللہ کی قسم سے کہتا ہوں۔آپ نے فرمایا ’’یہ وہی ہے جو تم نے ارادہ کیا۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ روایت ابن جریج کی (گذشتہ) روایت (2196) سے صحیح تر ہے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں کیونکہ یہ لوگ اس کے اپنے گھر والے ہیں،اور یہ اس کے متعلق بہتر جانتے ہیں۔اور ابن جریج کی روایت ابورافع کے کسی بیٹے نے عکرمہ سے اور اس نے ابن عباس سے روایت کی ہے۔