Sunan Abi Dawood Hadith 2231 (سنن أبي داود)

[2231]صحیح

صحیح بخاری (5283)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ،حَدَّثَنَا حَمَّادٌ،عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ،عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،أَنَّ مُغِيثًا كَانَ عَبْدًا،فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ! اشْفَعْ لِي إِلَيْہَا،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: يَا بَرِيرَةُ! اتَّقِي اللہَ, فَإِنَّہُ زَوْجُكِ،وَأَبُو وَلَدِكِ،فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللہِ! أَتَأْمُرُنِي بِذَلِكَ،قَالَ: لَا،إِنَّمَا أَنَا شَافِعٌ،فَكَانَ دُمُوعُہُ تَسِيلُ عَلَی خَدِّہِ،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ لِلْعَبَّاسِ: أَلَا تَعْجَبُ مِنْ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ وَبُغْضِہَا إِيَّاہُ.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مغیث غلام تھے۔کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! میرے بارے میں اس کو سفارش فرما دیجئیے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اے بریرہ! اللہ سے ڈر،بلاشبہ وہ تیرا شوہر ہے اور تیرے بچے کا باپ بھی ہے۔‘‘ وہ کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ اس کے بارے میں مجھے حکماً ارشاد فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’نہیں،میں صرف سفارشی ہوں۔‘‘ چنانچہ اس (مغیث) کے آنسو اس کے رخساروں پر بہتے تھے۔(وہ روتا پھرتا تھا) تو رسول اللہ ﷺ نے عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا ’’کس قدر تعجب کی بات ہے کہ مغیث کو بریرہ سے کتنی محبت ہے اور اس کو اس سے کتنا بغض ہے۔‘‘