Sunan Abi Dawood Hadith 2235 (سنن أبي داود)

[2235] إسنادہ ضعیف

ترمذی (1155) ابن ماجہ (2074)

إبراہیم النخعي عنعن وھو مدلس (طبقات المدلسین: 2/35 وھو عندنا من الثالثۃ)

ولو ثبت عن الأسود لکان معللا لمخالفۃ جمع من الرواۃ،والعدد الکثیر أولی بالحفظ (عند التعارض) من الواحد.

قال معاذ علي زئي:

وقال البیھقي: ’’ہكذا أدرجہ الثوري في الحديث عن عائشة‘‘ (السنن الکبریٰ: 7/ 363 ح 14274)

وقال البخاري في صحیحہ (6754): ’’قال الأسود: وكان زوجہا حرا.» ‌قول ‌الأسود ‌منقطع. وقول ابن عباس: رأيتہ عبدا أصح‘‘.

وقال ابن حبان: ’’الأسود واہم في قولہ: ‌كان ‌حرا‘‘ (الإحسان: 10/ 93 قبل ح 4272)

وقال أبو بکر ابن المنذر: ’’كان زوج ‌بريرة حرا من كلام الأسود ... ورواية اثنين أولی من رواية واحد‘‘ (الأوسط: 8/ 437،438)

انوار الصحیفہ ص 84

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ،أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ،عَنْ مَنْصُورٍ،عَنْ إِبْرَاہِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ،عَنْ عَائِشَةَ،أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ حُرًّا حِينَ أُعْتِقَتْ،وَأَنَّہَا خُيِّرَتْ فَقَالَتْ: مَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ مَعَہُ،وَأَنَّ لِي كَذَا وَكَذَا .

اسود بن یزید،سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ بریرہ کو جب آزاد کیا گیا تو اس کا شوہر بھی آزاد تھا۔اور بریرہ کو اختیار دیا گیا تو وہ کہنے لگی: میں اس کے ساتھ رہنا پسند نہیں کرتی خواہ مجھے اس اس قدر (مال) بھی کیوں نہ دے دیا جائے۔