Sunan Abi Dawood Hadith 2248 (سنن أبي داود)

[2248]صحیح

انظر الحدیث السابق (2247)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَكَانِيُّ،أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنِ الزُّہْرِيِّ،عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ... فِي خَبَرِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ،قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّم:َ أَبْصِرُوہَا،فَإِنْ جَاءَتْ بِہِ أَدْعَجَ الْعَيْنَيْنِ،عَظِيمَ الْأَلْيَتَيْنِ, فَلَا أُرَاہُ إِلَّا قَدْ صَدَقَ،وَإِنْ جَاءَتْ بِہِ أُحَيْمِرَ،كَأَنَّہُ وَحَرَةٌ, فَلَا أُرَاہُ إِلَّا كَاذِبًا. قَالَ: فَجَاءَتْ بِہِ عَلَی النَّعْتِ الْمَكْرُوہِ.

سیدنا سہیل بن سعد رضی اللہ عنہ لعان کرنے والوں کے اس واقعہ میں بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’اس عورت کا خیال رکھو،اگر اس نے ایسا بچہ جنا کہ آنکھیں اس کی سیاہ ہوئیں،سرین بھاری ہوئے تو میرا خیال ہے کہ اس (عویمر) نے سچ ہی کہا ہے۔اور اگر اس نے ایسا بچہ جنا جو گورا ہوا جیسے کہ وحرہ ہو (چھپکلی کی طرح کا ایک زہریلا کیڑا،جس کے دائیں بائیں پہلو سرخ دھاریاں ہوتی ہیں،یعنی بامنی) تو میرا خیال ہے کہ اس نے جھوٹ کہا ہے۔’’چنانچہ بچہ پیدا ہوا تو اسی ناپسندیدہ کیفیت والا تھا۔