Sunan Abi Dawood Hadith 2260 (سنن أبي داود)
[2260]صحیح
صحیح مسلم (1500)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَلَفٍ،حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّہْرِيِّ،عَنْ سَعِيدٍ،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ،قَال:َ جَاءَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ-مِنْ بَنِي فَزَارَةَ-،فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي جَاءَتْ بِوَلَدٍ أَسْوَدَ؟! فَقَالَ: ہَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟ قَالَ: نَعَمْ،قَالَ: مَا أَلْوَانُہَا؟،قَالَ: حُمْرٌ،قَالَ: فَہَلْ فِيہَا مِنْ أَوْرَقَ؟،قَالَ: إِنَّ فِيہَا لَوُرْقًا،قَالَ: فَأَنَّی تُرَاہُ؟،قَالَ: عَسَی أَنْ يَكُونَ نَزَعَہُ عِرْقٌ! قَالَ: وَہَذَا عَسَی أَنْ يَكُونَ نَزَعَہُ عِرْقٌ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو فزارہ کا ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا کہ میری بیوی نے بچے کو جنم دیا ہے جو کالے رنگ کا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’کیا تیرے پاس اونٹ ہیں؟‘‘ کہا: ہاں۔آپ نے پوچھا ’’ان کے رنگ کیسے ہیں؟‘‘ کہا: سرخ ہیں۔آپ ﷺ نے پوچھا ’’کیا ان میں کوئی گندم گوں (یا سیاہی مائل) بھی ہے؟‘‘ اس نے کہا: ہاں،ان میں سیاہی مائل بھی ہیں۔آپ نے فرمایا ’’تیرا کیا خیال ہے وہ کہاں سے آئے؟‘‘ اس نے کہا: شاید ان کو کسی رگ نے کھینچا ہو۔آپ نے فرمایا ’’اس بچے کو بھی شاید کسی رگ نے کھینچا ہو۔‘‘