Sunan Abi Dawood Hadith 2273 (سنن أبي داود)
[2273]صحیح
صحیح بخاری (2421) صحیح مسلم (1457)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَمُسَدَّدٌ،قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّہْرِيِّ،عَنْ عُرْوَةَ،عَنْ عَائِشَةَ،اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ فِي ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ،فَقَالَ سَعْدٌ: أَوْصَانِي أَخِي عُتْبَةُ،إِذَا قَدِمْتُ مَكَّةَ أَنْ أَنْظُرَ إِلَی ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ،فَأَقْبِضَہُ فَإِنَّہُ ابْنُہُ،وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: أَخِي ابْنُ أَمَةِ أَبِي،وُلِدَ عَلَی فِرَاشِ أَبِي،فَرَأَی رَسُولُ اللہِ ﷺ شَبَہًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ فَقَالَ: الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ،وَلِلْعَاہِرِ الْحَجَرُ،وَاحْتَجِبِي عَنْہُ يَا سَوْدَةُ. زَادَ مُسَدَّدٌ فِي حَدِيثِہِ وَقَالَ ہُوَ أَخُوكَ يَا عَبْدُ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ (یہ ام المؤمنین سودہ رضی اللہ عنہا کے بھائی ہیں) اپنا ایک تنازعہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر آئے جو کہ زمعہ کی لونڈی کے بیٹے (کی تولیت) سے متعلق تھا۔سعد نے کہا: میرے بھائی عتبہ نے مجھے وصیت کی تھی کہ میں (سعد) جب مکے جاؤں تو زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کو دیکھوں اور اسے اپنی تولیت میں لے لوں،بلاشبہ وہ میرا ہی بیٹا ہے۔جبکہ عبد بن زمعہ نے کہا: وہ میرا بھائی ہے،میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے،میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے دیکھا کہ بچے اور عتبہ کے مابین واضح مشابہت ہے مگر آپ نے فرمایا ’’بچہ بستر والے کا ہے،اور زانی کے لیے پتھر ہیں اور اے سودہ! (ام المؤمنین رضی اللہ عنہ) اس سے پردہ کر۔‘‘ مسدد نے اپنی روایت میں کہا: ’’اے عبد! یہ تیرا ہی بھائی ہے۔‘‘