Sunan Abi Dawood Hadith 2274 (سنن أبي داود)
[2274]إسنادہ حسن
مشکوۃ المصابیح (3320)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا زُہَيْرُ بْنُ حَرْبٍ،حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ ہَارُونَ،أَخْبَرَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ،عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ جَدِّہِ قَالَ: قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ! إِنَّ فُلَانًا ابْنِي عَاہَرْتُ بِأُمِّہِ فِي الْجَاہِلِيَّةِ،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: لَا دَعْوَةَ فِي الْإِسْلَامِ،ذَہَبَ أَمْرُ الْجَاہِلِيَّةِ, الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ،وَلِلْعَاہِرِ الْحَجَرُ.
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ اے اللہ کے رسول! فلاں بچہ میرا بیٹا ہے۔میں نے جاہلیت میں اس کی ماں سے بدکاری کی تھی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اسلام میں اس قسم کا کوئی دعویٰ نہیں چلتا۔جاہلیت کے امور سب ختم ہیں۔بچہ بستر والے کا ہے اور اور زانی کے لیے پتھر ہیں۔(یا محرومی ہے۔)‘‘