Sunan Abi Dawood Hadith 2295 (سنن أبي داود)
[2295]صحیح
صحیح بخاری (5321، 5322)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ،عَنْ مَالِكٍ،عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّہُ سَمِعَہُمَا يَذْكُرَانِ أَنَّ يَحْيَی بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ،طَلَّقَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَكَمِ الْبَتَّةَ،فَانْتَقَلَہَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ،فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ-رَضِي اللہ عَنْہَا-إِلَی مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ-وَہُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ-،فَقَالَتْ لَہُ: اتَّقِ اللہَ،وَارْدُدِ الْمَرْأَةَ إِلَی بَيْتِہَا،فَقَالَ مَرْوَانُ: فِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ غَلَبَنِي،-وَقَالَ مَرْوَانُ فِي حَدِيثِ الْقَاسِمِ أَوَ مَا بَلَغَكِ شَأْنُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ؟-فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لَا يَضُرُّكَ أَنْ لَا تَذْكُرَ حَدِيثَ فَاطِمَةَ! فَقَالَ مَرْوَانُ: إِنْ كَانَ بِكِ الشَّرُّ, فَحَسْبُكِ مَا كَانَ بَيْنَ ہَذَيْنِ مِنَ الشَّرِّ .
قاسم بن محمد اور سلیمان بن یسار کا بیان ہے کہ یحییٰ بن سعید بن العاص نے (اپنی بیوی عمرہ) بنت عبدالرحمٰن بن حکم کو طلاق دے دی،طلاق بتہ (تین طلاقیں) تو عبدالرحمٰن نے اپنی بیٹی کو (اپنے گھر) منتقل کر لیا۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مروان بن حکم کو پیغام بھیجا اور وہ ان دنوں مدینہ کا حاکم تھا،کہ اللہ سے ڈرو اور عورت کو اس کے (خاوند کے) گھر لوٹا دو۔مروان نے کہا: (بالفاظ سلیمان) عبدالرحمٰن مجھ پر غالب آ گیا ہے۔اور (بالفاظ قاسم) مروان نے کہا: کیا آپ کو فاطمہ بنت قیس کا احوال نہیں پہنچا؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اگر آپ فاطمہ کی حدیث بیان نہ کریں تو آپ کو کوئی نقصان نہ ہو گا۔(اس کو ایک خاص وجہ سے اجازت دی گئی تھی) مروان نے کہا: اگر آپ ایک شر کو انتقال کی وجہ جواز سمجھتی ہیں تو ان زوجین کے درمیان موجود شر بھی اس کی وجہ جواز ہے۔