Sunan Abi Dawood Hadith 2305 (سنن أبي داود)
[2305] إسنادہ ضعیف
نسائی (3567)
أم حکیم بنت أسید: لا یعرف حالھا (تقریب: 8724) والمغیرۃ بن الضحاک مجہول
انظر التحریر (6841)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ،حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ،أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ،عَنْ أَبِيہِ،قَالَ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ الضَّحَّاكِ, يَقُولُ أَخْبَرَتْنِي أُمُّ حَكِيمٍ بِنْتُ أَسِيدٍ،عَنْ أُمِّہَا،أَنَّ زَوْجَہَا تُوُفِّيَ-وَكَانَتْ تَشْتَكِي عَيْنَيْہَا،فَتَكْتَحِلُ بِالْجِلَاءِ،-قَالَ أَحْمَدُ: الصَّوَابُ: بِكُحْلِ الْجِلَاءِ-فَأَرْسَلَتْ مَوْلَاةً لَہَا إِلَی أُمِّ سَلَمَةَ،فَسَأَلَتْہَا عَنْ كُحْلِ الْجِلَاءِ؟ فَقَالَتْ: لَا تَكْتَحِلِي بِہِ،إِلَّا مِنْ أَمْرٍ لَا بُدَّ مِنْہُ يَشْتَدُّ عَلَيْكِ،فَتَكْتَحِلِينَ بِاللَّيْلِ وَتَمْسَحِينَہُ بِالنَّہَارِ،ثُمَّ قَالَتْ عِنْدَ ذَلِكَ أُمُّ سَلَمَةَ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللہِ ﷺ-حِينَ تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ،وَقَدْ جَعَلْتُ عَلَی عَيْنِي صَبْرًا-،فَقَالَ: مَا ہَذَا يَا أُمَّ سَلَمَةَ؟،فَقُلْتُ: إِنَّمَا ہُوَ صَبْرٌ يَا رَسُولَ اللہِ! لَيْسَ فِيہِ طِيبٌ،قَالَ: إِنَّہُ يَشُبُّ الْوَجْہَ،فَلَا تَجْعَلِيہِ إِلَّا بِاللَّيْلِ،وَتَنْزَعِينَہُ بِالنَّہَار،ِ وَلَا تَمْتَشِطِي بِالطِّيبِ،وَلَا بِالْحِنَّاءِ،فَإِنَّہُ خِضَابٌ!. قَالَتْ: قُلْتُ: بِأَيِّ شَيْءٍ أَمْتَشِطُ يَا رَسُولَ اللہِ؟! قَالَ: بِالسِّدْرِ تُغَلِّفِينَ بِہِ رَأْسَكِ.
ام حکیم بنت اسید اپنی والدہ سے روایت کرتی ہیں کہ ان کا شوہر فوت ہو گیا اور ان کی آنکھیں خراب رہتی تھیں اور انہوں نے (جلاء) سرمہ استعمال کرنا چاہا۔احمد بن صالح نے کہا: صحیح روایت ((کحل الجلاء)) ہے۔تو اس نے اپنی خادمہ کو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا اور ((کحل الجلاء)) ’’روشنی دینے والا سرمہ‘‘ استعمال کرنے کے متعلق پوچھا۔انہوں نے کہا: استعمال نہ کرے الا یہ کہ انتہائی مجبوری ہو تو رات کو استعمال کرے اور دن میں صاف کر دے۔یہ خبر بتاتے ہوئے پھر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ابوسلمہ کی وفات کے موقع پر رسول اللہ ﷺ میرے ہاں تشریف لائے اور میں نے اپنی آنکھ پر ایلوا لگا رکھا تھا۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’ام سلمہ! یہ کیا ہے؟‘‘ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ایلوا ہے اور اس میں کوئی خوشبو نہیں ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’بیشک یہ چہرے کو مزین کر دیتا ہے،لہٰذا صرف رات کو استعمال کرو اور دن میں اسے صاف کر دیا کرو۔اور کسی خوشبو والی چیز کے ساتھ اور مہندی کے ساتھ کنگھی نہ کرو (سر نہ دھو) کیونکہ یہ خضاب ہے۔‘‘ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! تو پھر کس چیز سے میں کنگھی کیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’بیری (کے پتوں) سے،اسے اپنے سر پر چپڑ لیا کرو (بعد میں دھو ڈالا کرو)۔‘‘