Sunan Abi Dawood Hadith 2316 (سنن أبي داود)

[2316]إسنادہ حسن

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ،حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ،عَنْ عِكْرَمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: وَعَلَی الَّذِينَ يُطِيقُونَہُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ[البقرة: 184]،فَكَانَ مَنْ شَاءَ مِنْہُمْ أَنْ يَفْتَدِيَ بِطَعَامِ مِسْكِينٍ افْتَدَی،وَتَمَّ لَہُ صَوْمُہُ،فَقَالَ:فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَہُوَ خَيْرٌ لَہُ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ[البقرة: 184]،وقَالَ:فَمَنْ شَہِدَ مِنْكُمُ الشَّہْرَ فَلْيَصُمْہُ وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَی سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ[البقرة: 185].

عکرمہ سے منقول ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما آیت کریمہ ((وعلی الذین یطیقونہ فدیۃ طعام مسکین)) کے سلسلے میں فرماتے ہیں کہ جو کوئی ایک مسکین کا فدیہ دینا چاہتا،دے دیتا تھا اور اس کا روزہ پورا اور کامل سمجھا جاتا تھا۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ((فمن تطوع خیرا فہو خیر لہ وأن تصوموا خیر لکم)) ’’جو خوشی سے بھلائی کرے (مسکین کو کھانا کھلائے) تو یہ اس کے لیے بہتر ہے اور روزہ رکھنا تمہارے لیے بہتر ہے۔‘‘ اور فرمایا ((من شہد منکم الشہر فلیصمہ ومن کان مریضا أو علی سفر فعدۃ من أیام أخر)) ’’جو شخص اس مہینے میں حاضر ہو تو اسے چاہیئے کہ اس کے روزے رکھے۔اور جو مریض ہو یا سفر پر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں ان کی گنتی پوری کرے۔‘‘