Sunan Abi Dawood Hadith 2318 (سنن أبي داود)

[2318] إسنادہ ضعیف

قتادۃ عنعن

انوار الصحیفہ ص 87

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی،حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ،عَنْ سَعِيدٍ،عَنْ قَتَادَةَ،عَنْ عَزْرَةَ،عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: وَعَلَی الَّذِينَ يُطِيقُونَہُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ[البقرة: 184], قَالَ: كَانَتْ رُخْصَةً لِلشَّيْخِ الْكَبِيرِ،وَالْمَرْأَةِ الْكَبِيرَةِ،وَہُمَا يُطِيقَانِ الصِّيَامَ, أَنْ يُفْطِرَا وَيُطْعِمَا مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا, وَالْحُبْلَی وَالْمُرْضِعُ إِذَا خَافَتَا. قَالَ أبو دَاود: يَعْنِي عَلَی أَوْلَادِہِمَا, أَفْطَرَتَا وَأَطْعَمَتَا.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آیت کریمہ ((وعلی الذین یطیقونہ فدیۃ طعام مسکین)) کی تفسیر میں انہوں نے کہا کہ بڑی عمر کے بوڑھے مرد اور عورت کے لیے رخصت ہے کہ باوجود روزے کی طاقت کے افطار کر سکتے ہیں۔وہ ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیا کریں۔اسی طرح حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتوں کو جب اندیشہ ہو۔(تو وہ بھی افطار کر سکتی ہیں۔) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مقصد یہ ہے کہ جب انہیں اپنے بچے کے بارے میں (بیماری یا کمزوری وغیرہ کا) اندیشہ ہو تو افطار کر سکتی ہیں اور اس کے بدلے کھانا کھلا دیا کریں۔