Sunan Abi Dawood Hadith 2320 (سنن أبي داود)
[2320]صحیح
صحیح مسلم (1080)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ،حَدَّثَنَا حَمَّادٌ،حَدَّثَنَا أَيُّوبُ،عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ،قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: الشَّہْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ،فَلَا تَصُومُوا حَتَّی تَرَوْہُ،وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّی تَرَوْہُ،فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَہُ ثَلَاثِينَ. قَالَ: فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا كَانَ شَعْبَانُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ نَظَرَ لَہُ،فَإِنْ رُئِيَ فَذَاكَ وَإِنْ لَمْ يُرَ،وَلَمْ يَحُلْ دُونَ مَنْظَرِہِ سَحَابٌ،وَلَا قَتَرَةٌ, أَصْبَحَ مُفْطِرًا،فَإِنْ حَالَ دُونَ مَنْظَرِہِ سَحَابٌ أَوْ قَتَرَةٌ, أَصْبَحَ صَائِمًا. قَالَ: فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُفْطِرُ مَعَ النَّاسِ،وَلَا يَأْخُذُ بِہَذَا الْحِسَابِ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’مہینہ انتیس دن کا (بھی) ہوتا ہے۔سو چاند دیکھے بغیر نہ روزے شروع کرو اور نہ دیکھے بغیر ختم کرو۔اگر بادل کے باعث نظر نہ آئے تو اس مہینے کے تیس دن کا اندازہ لگا لو۔‘‘ چنانچہ جب شعبان کہ انتیسویں تاریخ ہوتی تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے لیے چاند دیکھا جاتا۔اگر نظر آ جاتا تو بہتر اور اگر دکھائی نہ دیتا اور نظر نہ آنے میں کوئی بادل یا غبار بھی حائل نہ ہوتا تو وہ روزہ نہ رکھتے۔لیکن اگر فضا میں کوئی بادل یا غبار حائل ہوتا تو وہ روزہ رکھ لیتے۔راوی نے بیان کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما لوگوں کے ساتھ ہی روزہ چھوڑتے اور حساب کے درپے نہ ہوتے۔