Sunan Abi Dawood Hadith 2332 (سنن أبي داود)
[2332]صحیح
صحیح مسلم (1087)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ،حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ،أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ،أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ،أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ ابْنَةَ الْحَارِثِ بَعَثَتْہُ إِلَی مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ،قَالَ: فَقَدِمْتُ الشَّامَ،فَقَضَيْتُ حَاجَتَہَا،فَاسْتَہَلَّ رَمَضَانُ،وَأَنَا بِالشَّامِ،فَرَأَيْنَا الْہِلَالَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ،ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي آخِرِ الشَّہْرَ،فَسَأَلَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ،ثُمَّ ذَكَرَ الْہِلَالَ،فَقَالَ: مَتَی رَأَيْتُمُ الْہِلَالَ؟ قُلْتُ: رَأَيْتُہُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ،قَالَ: أَنْتَ رَأَيْتَہُ قُلْتُ: نَعَمْ وَرَآہُ النَّاسُ وَصَامُوا وَصَامَ مُعَاوِيَةُ قَالَ لَكِنَّا رَأَيْنَاہُ لَيْلَةَ السَّبْتِ،فَلَا نَزَالُ نَصُومُہُ،حَتَّی نُكْمِلَ الثَّلَاثِينَ،أَوْ نَرَاہُ،فَقُلْتُ: أَفَلَا تَكْتَفِي بِرُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ وَصِيَامِہِ؟ قَالَ: لَا،ہَكَذَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللہِ ﷺ.
جناب کریب کہتے ہیں کہ (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی والدہ) ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے مجھے شام میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا۔چنانچہ میں شام آیا اور وہاں ان کا کام مکمل کیا،اور رمضان کا چاند نظر آ گیا جبکہ میں ابھی شام ہی میں تھا۔ہم نے جمعہ کی رات کو چاند دیکھا۔پھر مہینے کے آخر میں،میں مدینے واپس پہنچا تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے حال احوال پوچھے اور چاند کا ذکر کیا کہ تم نے اسے کب دیکھا تھا؟ میں نے کہا: میں نے اسے جمعہ کی رات کو دیکھا تھا؟ انہوں نے کہا: کیا تم نے خود دیکھا تھا؟ میں نے کہا: ہاں،اور دوسرے لوگوں نے بھی دیکھا تھا اور پھر سب نے روزے رکھے اور معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی روزہ رکھا۔انہوں نے کہا: مگر ہم نے اسے ہفتے کی رات کو دیکھا تھا اور ہم روزے رکھیں گے اور پورے تیس کریں گے (اپنی رؤیت کے مطابق) یا چاند دیکھ لیں۔میں نے کہا: کیا آپ معاویہ رضی اللہ عنہ کے چاند دیکھنے اور روزے رکھنے پر کفایت نہیں کریں گے؟ انہوں نے کہا: نہیں،رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایسے ہی حکم دیا ہے۔