Sunan Abi Dawood Hadith 2347 (سنن أبي داود)
[2347]صحیح
صحیح بخاری (621) صحیح مسلم (1093)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنِ التَّيْمِيِّ ح،وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ،حَدَّثَنَا زُہَيْرٌ،حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ،عَنْ أَبِي عُثْمَانَ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ،قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ مِنْ سُحُورِہِ, فَإِنَّہُ يُؤَذِّنُ-أَوْ قَالَ: يُنَادِي-لِيَرْجِعَ قَائِمُكُمْ،وَيَنْتَبِہَ نَائِمُكُمْ،وَلَيْسَ الْفَجْرُ أَنْ يَقُولَ ہَكَذَا قَالَ مُسَدَّدٌ:-وَجَمَعَ يَحْيَی كَفَّيْہِ-،حَتَّی يَقُولَ: ہَكَذَا-وَمَدَّ يَحْيَی بِأُصْبُعَيْہِ السَّبَّابَتَيْنِ-
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’بلال کی اذان تم میں سے کسی کو سحری کھانے سے ہرگز نہ روکے۔بلاشبہ وہ اذان کہتا ہے،یا کہا،ندا دیتا ہے۔تاکہ تمہارا نماز پڑھنے والا رک جائے (تہجد سے) اور سونے والا جاگ جائے۔اور فجر (فجر صادق) وہ نہیں جو اس طرح سے ظاہر ہو۔مسدد نے کہا: راوی حدیث یحییٰ نے اپنی دونوں ہتھیلیاں ملا کر ان کو اونچا کر کے دکھلایا (جو اونچی اور لمبی روشنی اول وقت ہوتی ہے وہ صبح نہیں) آپ نے فرمایا ’’جب تک اس طرح ظاہر نہ ہو۔‘‘ اور یحییٰ نے اپنی شہادت کی دونوں انگلیاں اطراف میں پھیلا کر اشارے سے سمجھایا۔