Sunan Abi Dawood Hadith 2352 (سنن أبي داود)

[2352]صحیح

صحیح بخاری (1955) صحیح مسلم (1101)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ،حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ،قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللہِ بْنَ أَبِي أَوْفَی،يَقُولُ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ وَہُوَ صَائِمٌ،فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ, قَالَ: يَا بِلَالُ! انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا،قَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ. لَوْ أَمْسَيْتَ!،قَالَ: انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا،قَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ إِنَّ عَلَيْكَ نَہَارًا!،قَالَ: انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا،فَنَزَلَ،فَجَدَحَ،فَشَرِبَ رَسُولُ اللہِ ﷺ،ثُمَّ قَال:َ إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ ہَا ہُنَا, فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ.-وَأَشَارَ بِأُصْبُعِہِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ-.

سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (ایک سفر میں) ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ گئے جبکہ آپ روزے سے تھے۔جب سورج غروب ہو گیا تو آپ نے فرمایا ’’اے بلال! اترو اور ہمارے لیے ستو گھولو۔‘‘ انہوں نے کہا: اے اﷲ کے رسول! ذرا شام ہو لینے دیجئیے۔آپ نے فرمایا ’’اترو اور ہمارے لیے ستو گھولو۔‘‘ انہوں نے کہا: اے اﷲ کے رسول! ابھی تو دن ہے۔آپ نے فرمایا اترو اور ہمارے لیے ستو گھولو۔‘‘ چنانچہ بلال اترے ‘ ستو گھولا اور پھر آپ نے نوش کیا اور فرمایا ’’جب دیکھو کہ ادھر سے رات ہو گئی ہے تو بلاشبہ روزے دار کے لیے افطار کا وقت ہو گیا۔‘‘ اور آپ ﷺ نے اپنی انگلی سے مشرق کی طرف اشارہ فرمایا۔