Sunan Abi Dawood Hadith 2380 (سنن أبي داود)
[2380] إسنادہ ضعیف
ترمذی (720) ابن ماجہ (1676)
ھشام بن حسان عنعن
وأخرج البیہقي (219/4) بأسانید صحیحۃ عن ابن عمر قال:’’من ذرعہ القئ فلا قضاء علیہ ومن استقاء فعلیہ القضاء‘‘
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ،حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ حَسَّانَ،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ،قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّم:َ مَنْ ذَرَعَہُ قَيْءٌ وَہُوَ صَائِمٌ, فَلَيْسَ عَلَيْہِ قَضَاءٌ،وَإِنِ اسْتَقَاءَ فَلْيَقْضِ. قَالَ أَبو دَاود: رَوَاہُ أَيْضًا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ،عَنْ ہِشَامٍ مِثْلَہُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جس کسی کو قے آ جائے جبکہ وہ روزے سے ہو تو اس پر کوئی قضاء نہیں ہے،لیکن اگر وہ قصداً قے کرے تو قضاء دے۔‘‘ ¤ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس روایت کو حفص بن غیاث نے بھی ہشام سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔