Sunan Abi Dawood Hadith 2389 (سنن أبي داود)

[2389]إسنادہ صحیح

صحیح مسلم (1110)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْلَمَةَ يَعْنِي الْقَعْنَبِيَّ،عَنْ مَالِكٍ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الْأَنْصَارِيِّ،عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَی عَائِشَةَ،عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ،أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَسُولِ اللہِ ﷺ-وَہُوَ وَاقِفٌ عَلَی الْبَابِ-: يَا رَسُولَ اللہِ! إِنِّي أُصْبِحُ جُنُبًا وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: وَأَنَا أُصْبِحُ جُنُبًا وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ،فَأَغْتَسِلُ وَأَصُومُ،فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللہِ! إِنَّكَ لَسْتَ مِثْلَنَا،قَدْ غَفَرَ اللہُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ،فَغَضِبَ رَسُولُ اللہِ ﷺ،وَقَالَ: وَاللہِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَخْشَاكُمْ لِلَّہِ،وَأَعْلَمَكُمْ بِمَا أَتَّبِعُ.

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ پوچھا جبکہ آپ ﷺ دروازے پر کھڑے تھے: اے اللہ کے رسول! میں بحالت جنابت صبح کرتا ہوں اور روزہ بھی رکھنا چاہتا ہوں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’میں بھی (بعض اوقات) صبح کو جنابت کی حالت میں اٹھتا ہوں اور روزے کا ارادہ ہوتا ہے تو غسل کر لیتا ہوں اور روزہ رکھتا ہوں۔‘‘ وہ آدمی کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! آپ تو ہماری مانند نہیں ہیں۔اللہ عزوجل نے آپ کی اگلی پچھلی تمام تقصیرات معاف فرمائی ہوئی ہیں۔اس پر آپ غضبناک ہو گئے اور فرمایا ’’قسم اللہ کی! میں یقیناً تم میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور اتباع کے لائق اعمال سے بہت زیادہ آگاہ ہوں۔‘‘