Sunan Abi Dawood Hadith 2390 (سنن أبي داود)
[2390]صحیح
صحیح بخاری (6711) صحیح مسلم (1111)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَی الْمَعْنَی،قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا الزُّہْرِيُّ،عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ،قَالَ: أَتَی رَجُلٌ النَّبِيَّ ﷺ،فَقَالَ: ہَلَكْتُ،فَقَالَ: مَا شَأْنُكَ؟،قَالَ: وَقَعْتُ عَلَی امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ،قَالَ: فَہَلْ تَجِدُ مَا تُعْتِقُ رَقَبَةً؟،قَالَ: لَا قَالَ: فَہَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَہْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟،قَالَ: لَا،قَالَ: فَہَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟،قَالَ: لَا،قَالَ: اجْلِسْ،فَأُتِيَ النَّبِيُّ ﷺ بِعَرَقٍ فِيہِ تَمْرٌ،فَقَالَ: تَصَدَّقْ بِہِ،فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ! مَا بَيْنَ لَابَتَيْہَا أَہْلُ بَيْتٍ أَفْقَرُ مِنَّا! فَضَحِكَ رَسُولُ اللہِ ﷺ حَتَّی بَدَتْ ثَنَايَاہُ،قَالَ: فَأَطْعِمْہُ إِيَّاہُمْ . وقَالَ مُسَدَّدٌ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ أَنْيَابُہُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہا: میں تو مارا گیا۔آپ ﷺ نے پوچھا ’’کیا ہوا؟‘‘ اس نے کہا: میں رمضان میں اپنی بیوی سے ہمبستر ہو بیٹھا ہوں۔آپ ﷺ نے پوچھا ’’کیا تو طاقت رکھتا ہے کہ ایک گردن آزاد کر سکے؟‘‘ اس نے کہا: نہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’کیا تو ہمت رکھتا ہے کہ دو ماہ متواتر روزے رکھے؟‘‘ اس نے کہا: نہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’کیا تجھے طاقت ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکے؟‘‘ اس نے کہا: نہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’بیٹھ جاؤ۔‘‘ چنانچہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا،اس میں کھجوریں تھیں۔آپ ﷺ نے اس سے فرمایا ’’ان کو صدقہ کر دہ۔‘‘ وہ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! مدینے کی دونوں پتھریلی زمینوں کے مابین ہم سے زیادہ اور کوئی فقیر نہیں ہے۔رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے حتیٰ کہ آپ کے اگلے دانت دکھائی دینے لگے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’گھر والوں ہی کو کھلا دو۔‘‘ ¤ مسدد نے اپنی روایت میں کہا کہ آپ کے نوکیلے دانت نظر آنے لگے۔