Sunan Abi Dawood Hadith 2391 (سنن أبي داود)
[2391]صحیح
صحیح بخاری (6710) صحیح مسلم (1111)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ،أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِيِّ بِہَذَا الْحَدِيثِ... بِمَعْنَاہُ. زَادَ الزُّہْرِيُّ: وَإِنَّمَا كَانَ ہَذَا رُخْصَةً لَہُ خَاصَّةً،فَلَوْ أَنَّ رَجُلًا فَعَلَ ذَلِكَ الْيَوْمَ،لَمْ يَكُنْ لَہُ بُدٌّ مِنَ التَّكْفِيرِ. قَالَ أَبو دَاود: رَوَاہُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ وَالْأَوْزَاعِيُّ وَمَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ وَعِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ عَلَی مَعْنَی ابْنِ عُيَيْنَةَ زَادَ فِيہِ الْأَوْزَاعِيُّ وَاسْتَغْفِرِ اللہَ.
جناب زہری نے یہ حدیث اسی مذکورہ معنی میں بیان کی اور مزید کہا کہ یہ اسی آدمی کے لیے رخصت تھی آج اگر کوئی یہ کام کر بیٹھے تو کفارے سے چارہ نہیں۔¤ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: اس روایت کو لیث بن سعد،اوزاعی،منصور بن معتمر اور عراک بن مالک نے سفیان بن عیینہ کی مانند بیان کیا۔اوزاعی نے اپنی روایت میں یہ زیادہ کیا: ’’اور اللہ سے استغفار بھی کر۔‘‘