Sunan Abi Dawood Hadith 2392 (سنن أبي داود)
[2392]صحیح
صحیح مسلم (1111)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْلَمَةَ،عَنْ مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ،عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ،أَنَّ رَجُلًا أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ،فَأَمَرَہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ أَنْ يُعْتِقَ رَقَبَةً،أَوْ يَصُومَ شَہْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ،أَوْ يُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا،قَالَ: لَا أَجِدُ،فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ: اجْلِسْ،فَأُتِيَ رَسُولُ اللہِ ﷺ بِعَرَقٍ فِيہِ تَمْرٌ،فَقَالَ: خُذْ ہَذَا فَتَصَدَّقْ بِہِ،فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ! مَا أَحَدٌ أَحْوَجُ مِنِّي فَضَحِكَ رَسُولُ اللہِ ﷺ،حَتَّی بَدَتْ أَنْيَابُہُ،وَقَالَ لَہُ: كُلْہُ. قَالَ أَبو دَاود: رَوَاہُ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنِ الزُّہْرِيِّ عَلَی لَفْظِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا أَفْطَرَ،وَقَالَ فِيہِ: أَوْ تُعْتِقَ رَقَبَةً،أَوْ تَصُومَ شَہْرَيْنِ،أَوْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رمضان میں روزہ توڑ لیا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے حکم دیا کہ ایک گردن آزار کرے یا دو ماہ متواتر روزے رکھے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔اس نے کہا: میں (کسی کی بھی) طاقت نہیں رکھتا۔تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا ’’بیٹھ جاؤ۔‘‘ پھر آپ کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا،اس میں کھجوریں تھیں،آپ ﷺ نے فرمایا ’’یہ لے جاؤ اور صدقہ کرو۔‘‘ وہ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! مجھ سے بڑھ کر اور کوئی محتاج نہیں ہے۔تو آپ ﷺ ہنس پڑے حتیٰ کہ آپ کے نوکیلے دانت نظر آنے لگے اور اس سے فرمایا ’’جاؤ کھا لو۔‘‘ ¤ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن جریج نے زہری سے بالفاظ امام مالک روایت کیا اور کہا کہ ’’ایک آدمی نے روزہ توڑ لیا۔‘‘ اور آپ نے اس سے فرمایا ’’یا تو ایک گردن آزاد کرو یا دو ماہ روزے رکھو یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔‘‘