Sunan Abi Dawood Hadith 2403 (سنن أبي داود)

[2403] إسنادہ ضعیف

محمد بن عبدالمجید و حمزۃ بن محمد بن حمزۃ: مجہولان انظرالتحریر (6096،1531)

والحدیث السابق (الأصل:2402) صحیح،یغني عنہ

انوار الصحیفہ ص 89

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ،حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْمَدَنِيُّ،قَالَ: سَمِعْتُ حَمْزَةَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَةَ الْأَسْلَمِيَّ يَذْكُرُ أَنَّ أَبَاہُ أَخْبَرَہُ،عَنْ جَدِّہِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ! إِنِّي صَاحِبُ ظَہْرٍ أُعَالِجُہُ،أُسَافِرُ عَلَيْہِ وَأَكْرِيہِ،وَإِنَّہُ رُبَّمَا صَادَفَنِي ہَذَا الشَّہْرُ-يَعْنِي: رَمَضَانَ-وَأَنَا أَجِدُ الْقُوَّةَ،وَأَنَا شَابٌّ،وَأَجِدُ بِأَنْ أَصُومَ يَا رَسُولَ اللہِ! أَہْوَنَ عَلَيَّ مِنْ أَنْ أُؤَخِّرَہُ،فَيَكُونُ دَيْنًا،أَفَأَصُومُ يَا رَسُولَ اللہِ أَعْظَمُ لِأَجْرِي أَوْ أُفْطِرُ؟ قَالَ: أَيُّ ذَلِكَ شِئْتَ يَا حَمْزَةُ!.

جناب حمزہ بن محمد حمزہ اسلمی بیان کرتے ہیں کہ اس کے والد نے اس کے دادا سے بیان کیا (کہ حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے) کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے سواری کے جانور رکھے ہوئے ہیں۔میرا کام انہی سے متعلق ہے،سفر میں رہتا ہوں،جانور کرائے پر چلاتا ہوں اور بسا اوقات یہ رمضان کا مہینہ بھی آ جاتا ہے اور میں اپنے اندر طاقت پاتا ہوں اور جوان ہوں۔اے اللہ کے رسول! میں روزے مؤخر کرنے کی بجائے رکھ لینا زیادہ آسان سمجھتا ہوں،ورنہ میرے ذمے رہ جائیں گے تو اے اللہ کے رسول! مجھے روزہ رکھنے میں زیادہ اجر ہے یا افطار کرنے میں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’حمزہ! جو چاہو کر سکتے ہو۔‘‘