Sunan Abi Dawood Hadith 2404 (سنن أبي داود)
[2404]صحیح
صحیح بخاری (1948) صحیح مسلم (1133)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ،عَنْ مَنْصُورٍ،عَنْ مُجَاہِدٍ،عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ ﷺ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَی مَكَّةَ،حَتَّی بَلَغَ عُسْفَانَ،ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ فَرَفَعَہُ إِلَی فِيہِ, لِيُرِيَہُ النَّاسَ،وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ. فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ: قَدْ صَامَ النَّبِيُّ ﷺ وَأَفْطَرَ،فَمَنْ شَاءَ صَامَ،وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ مدینے سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے حتیٰ کہ مقام غسفان پر پہنچ گئے،پھر آپ ﷺ نے برتن منگوایا اور اسے اپنے منہ کی طرف بلند کیا تاکہ لوگ آپ ﷺ کو دیکھ لیں (کہ آپ ﷺ افطار کر رہے ہیں) اور یہ رمضان کا واقعہ ہے۔چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ بلاشبہ نبی کریم ﷺ نے روزہ رکھا ہے اور چھوڑا بھی،سو جو چاہے رکھ لے اور جو چاہے افطار کر لے۔