Sunan Abi Dawood Hadith 2406 (سنن أبي داود)

[2406]صحیح

صحیح مسلم (1120)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ وَوَہْبُ بْنُ بَيَانٍ الْمَعْنَی،قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ،حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ،عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ أَنَّہُ حَدَّثَہُ،عَنْ قَزَعَةَ،قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ،وَہُوَ يُفْتِي النَّاسَ،وَہُمْ مُكِبُّونَ عَلَيْہِ،فَانْتَظَرْتُ خَلْوَتَہُ،فَلَمَّا خَلَا, سَأَلْتُہُ عَنْ صِيَامِ رَمَضَانَ فِي السَّفَرِ؟ فَقَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فِي رَمَضَانَ عَامَ الْفَتْحِ،فَكَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يَصُومُ وَنَصُومُ،حَتَّی بَلَغَ مَنْزِلًا مِنَ الْمَنَازِلِ،فَقَالَ: إِنَّكُمْ قَدْ دَنَوْتُمْ مِنْ عَدُوِّكُمْ،وَالْفِطْرُ أَقْوَی لَكُمْ،فَأَصْبَحْنَا مِنَّا الصَّائِمُ،وَمِنَّا الْمُفْطِرُ،قَالَ: ثُمَّ سِرْنَا فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا،فَقَالَ: إِنَّكُمْ تُصَبِّحُونَ عَدُوَّكُمْ،وَالْفِطْرُ أَقْوَی لَكُمْ, فَأَفْطِرُوا. فَكَانَتْ عَزِيمَةً مِنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ. قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: ثُمَّ لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَصُومُ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ قَبْلَ ذَلِكَ،وَبَعْدَ ذَلِكَ.

قزعہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا جب کہ وہ لوگوں کے سوالوں کے جواب دے رہے تھے اور لوگ ان پر جھکے ہوئے تھے۔میں نے بھیڑ کے چھٹ جانے کا انتظار کیا۔جب وہ اکیلے ہو گئے تو میں نے ان سے سفر میں رمضان کے روزوں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ فتح مکہ کے سال ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ روانہ ہوئے۔آپ ﷺ نے روزے رکھے ‘ تو ہم بھی رکھتے رہے حتیٰ کہ ایک منزل پر پہنچے،تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’تم لوگ اب اپنے دشمن کے قریب آ گئے ہو اور افطار کرنا تمہارے لیے زیادہ قوت کا باعث ہے۔‘‘ تو ہم میں سے کچھ نے روزہ رکھا اور کچھ نے افطار کر لیا۔پھر ہم چلے اور ایک منزل پر پڑاؤ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’تم لوگ صبح کو اپنے دشمن کے مقابل آنے والے ہو اور افطار کرنا تمہارے لیے زیادہ قوت کا باعث ہے،سو افطار کر لو۔‘‘ چنانچہ یہ حکم رسول اللہ ﷺ کی طرف سے تاکیدی تھا۔ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے یاد ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ اس سے پہلے روزے رکھے ہیں اور بعد میں بھی۔