Sunan Abi Dawood Hadith 2408 (سنن أبي داود)
[2408]حسن
رواہ النسائي (2317 وسندہ حسن) مشکوۃ المصابیح (2025)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ،حَدَّثَنَا أَبُو ہِلَالٍ الرَّاسِبِيُّ،حَدَّثَنَا ابْنُ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيُّ،عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ-رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ اللہِ بْنِ كَعْبٍ إِخْوَةِ بَنِي قُشَيْرٍ-،قَالَ: أَغَارَتْ عَلَيْنَا خَيْلٌ لِرَسُولِ اللہِ ﷺ،فَانْتَہَيْتُ-أَوْ قَالَ: فَانْطَلَقْتُ-إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ،وَہُوَ يَأْكُلُ،فَقَالَ: اجْلِسْ فَأَصِبْ مِنْ طَعَامِنَا ہَذَا،فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ،قَالَ: اجْلِسْ أُحَدِّثْكَ عَنِ الصَّلَاةِ وَعَنِ الصِّيَامِ, إِنَّ اللہَ تَعَالَی وَضَعَ شَطْرَ الصَّلَاةِ-أَوْ نِصْفَ الصَّلَاةِ-وَالصَّوْمَ عَنِ الْمُسَافِرِ،وَعَنِ الْمُرْضِعِ،أَوِ الْحُبْلَی. وَاللہِ لَقَدْ قَالَہُمَا جَمِيعًا أَوْ أَحَدَہُمَا،قَالَ: فَتَلَہَّفَتْ نَفْسِي أَنْ لَا أَكُونَ أَكَلْتُ مِنْ طَعَامِ رَسُولِ اللہِ ﷺ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ (کعبی) سے روایت ہے اور یہ بنی عبداللہ بن کعب کے خاندان سے ہیں جو کہ بنی قشیر کے بھائی تھے۔(انس بن مالک رضی اللہ عنہ جو نبی کریم ﷺ کے خادم تھے وہ خزرجی انصاری ہیں) (کہا) کہ رسول اللہ ﷺ کے سواروں نے ہم پر حملہ کر دیا تو میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچا اور (دیکھا کہ) آپ کچھ تناول فرما رہے ہیں۔آپ نے فرمایا ’’آؤ! بیٹھو اور ہمارے اس طعام میں سے کچھ کھا لو۔‘‘ میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں۔آپ نے فرمایا ’’بیٹھ جاؤ میں تمہیں نماز اور روزے کے متعلق بتاتا ہوں۔اﷲ نے مسافر سے آدھی نماز اور روزہ معاف فرما دیا ہے اور دودھ پلانے والی اور حاملہ عورت سے بھی روزہ معاف کر دیا ہے۔‘‘ قسم اﷲ کی! آپ نے ان دونوں کا ذکر فرمایا تھا یا کسی ایک کا۔بیان کرتے ہیں کہ مجھے (بعد میں) بہت افسوس ہوا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے کھانے میں سے کیوں نہ کھایا۔(کیونکہ آپ کے ساتھ مل کر کھانا سعادت اور باعث برکت تھا اور روزہ نفل محض۔)