Sunan Abi Dawood Hadith 2425 (سنن أبي داود)

[2425]صحیح

صحیح مسلم (1162)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَمُسَدَّدٌ،قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ،عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ،عَنْ أَبِي قَتَادَةَ،أَنَّ رَجُلًا أَتَی النَّبِيَّ ﷺ،فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ! كَيْفَ تَصُومُ؟ فَغَضِبَ رَسُولُ اللہِ ﷺ مِنْ قَوْلِہِ،فَلَمَّا رَأَی ذَلِكَ عُمَرُ, قَالَ: رَضِينَا بِاللہِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا،وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا،نَعُوذُ بِاللہِ مِنْ غَضَبِ اللہِ،وَمِنْ غَضَبِ رَسُولِہِ،فَلَمْ يَزَلْ عُمَرُ يُرَدِّدُہَا،حَتَّی سَكَنَ غَضَبُ رَسُولِ اللہِ ﷺ،فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ! كَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ الدَّہْرَ كُلَّہُ،قَالَ: لَا صَامَ،وَلَا أَفْطَرَ قَالَ مُسَدَّدٌ: لَمْ يَصُمْ،وَلَمْ يُفْطِرْ،أَوْ: مَا صَامَ،وَلَا أَفْطَرَ،شَكَّ غَيْلَانُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ! كَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمَيْنِ،وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟ قَالَ: أَوَ يُطِيقُ ذَلِكَ أَحَدٌ؟،قَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ! فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟ قَالَ: ذَلِكَ صَوْمُ دَاوُدَ،قَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ. فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمَيْنِ؟ قَالَ: وَدِدْتُ أَنِّي طُوِّقْتُ ذَلِكَ،ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ثَلَاثٌ مِنْ كُلِّ شَہْرٍ،وَرَمَضَانُ،إِلَی رَمَضَانَ فَہَذَا صِيَامُ الدَّہْرِ كُلِّہِ،وَصِيَامُ عَرَفَةَ, إِنِّي أَحْتَسِبُ عَلَی اللہِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَہُ،وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَہُ،وَصَوْمُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ, إِنِّي أَحْتَسِبُ عَلَی اللہِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَہُ.

سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہا: اے اﷲ کے رسول! آپ روزے کس طرح رکھتے ہیں؟ تو رسول اللہ ﷺ اس کی بات سے ناراض ہو گئے۔جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ صورت حال دیکھی تو بولے: ہم اﷲ تعالیٰ کے رب ہونے ‘ اسلام کے دین ہونے اور محمد ﷺ کے نبی ہونے پر راضی ہیں ‘ ہم اﷲ کی پناہ چاہتے ہیں کہ وہ ہم پر ناراض ہو یا اس کا رسول۔اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنی یہ بات مسلسل دہراتے رہے حتیٰ کہ نبی کریم ﷺ کا غصہ زائل ہو گیا۔پھر (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے) کہا: اے اﷲ کے رسول! وہ آدمی کیسا ہے جو ہمیشہ ہی روزے سے رہتا ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’اس نے روزہ رکھا نہ افطار کیا۔‘‘ مسدد کے الفاظ تھے ((لم یصم ولم یفطر أو ما صام ولا أفطر)) یہ شک غیلان کو ہوا ہے۔(سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے) کہا: اے اﷲ کے رسول! وہ آدمی کیسا ہے جو دو دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے؟ آپ نے فرمایا ’’کیا بھلا کسی کو اس کی طاقت بھی ہے؟‘‘ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اﷲ کے رسول! اور وہ آدمی کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے؟ آپ نے فرمایا ’’یہ سیدنا داود علیہ السلام کا روزہ ہے۔‘‘ انہوں نے کہا: اے اﷲ کے رسول! اور وہ آدمی کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور دو دن افطار کرے؟ آپ نے فرمایا ’’میرا جی چاہتا ہے کہ مجھے اس کی طاقت دی جاتی۔‘‘ پھر رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا ’’تین دن ہر مہینے میں اور رمضان سے رمضان تک،(ہر رمضان میں پورے روزے رکھنا) یہ صیام الدھر ہے۔(سدا روزے سے رہنا ہے) اور عرفہ کا روزہ۔میں اﷲ سے امید رکھتا ہوں کہ وہ اسے ایک سال گزشتہ اور ایک سال آئندہ کا کفارہ بنا دے گا۔اور عاشورہ محرم کا روزہ،میں اﷲ سے امید رکھتا ہوں کہ وہ اسے گزشتہ ایک سال کا کفارہ بنا دے گا۔‘‘