Sunan Abi Dawood Hadith 2438 (سنن أبي داود)
[2438]صحیح
صحیح بخاری (969)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،حَدَّثَنَا وَكِيعٌ،حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ،عَنْ أَبِي صَالِحٍ وَمُجَاہِدٍ وَمُسْلِمٍ الْبَطِينِ،عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّم:َ مَا مِنْ أَيَّامٍ, الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيہَا أَحَبُّ إِلَی اللہِ مِنْ ہَذِہِ الْأَيَّامِ –يَعْنِي: أَيَّامَ الْعَشْرِ-،قَالُوا: يَا رَسُولَ اللہِ! وَلَا الْجِہَادُ فِي سَبِيلِ اللہِ؟ قَالَ: وَلَا الْجِہَادُ فِي سَبِيلِ اللہِ, إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِہِ وَمَالِہِ،فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ کو کوئی نیک عمل کسی دن میں اس قدر پسندیدہ نہیں ہے جتنا کہ ان دنوں میں پسندیدہ اور محبوب ہوتا ہے۔‘‘ یعنی ذوالحجہ کے پہلے عشرہ میں۔صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’نہیں،جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں مگر جو کوئی شخص اپنی جان و مال لے کر نکلا ہو اور پھر کچھ واپس نہ لایا ہو۔‘‘