Sunan Abi Dawood Hadith 2455 (سنن أبي داود)

[2455]صحیح

صحیح مسلم (1154)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ،حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح،وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،حَدَّثَنَا وَكِيعٌ جَمِيعًا،عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَی،عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ،عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللہُ عَنْہَا،قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِذَا دَخَلَ عَلَيَّ,،قَالَ: ہَلْ عِنْدَكُمْ طَعَامٌ؟،فَإِذَا قُلْنَا: لَا, قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ. زَادَ وَكِيعٌ فَدَخَلَ عَلَيْنَا يَوْمًا آخَرَ،فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللہِ أُہْدِيَ لَنَا حَيْسٌ فَحَبَسْنَاہُ لَكَ،فَقَالَ: أَدْنِيہِ،قَالَ طَلْحَةُ: فَأَصْبَحَ صَائِمًا وَأَفْطَرَ.

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ جب میرے ہاں تشریف لائے تو دریافت فرماتے ’’کیا تمہارے ہاں کوئی کھانا ہے؟‘‘ جب ہم کہتے کہ نہیں ہے ‘ تو آپ ﷺ فرماتے ’’میں روزہ رکھ لیتا ہوں۔‘‘ وکیع نے مزید بیان کیا کہ آپ ﷺ ایک دوسرے موقع پر ہمارے پاس تشریف لائے۔ہم نے عرض کیا: اے اﷲ کے رسول! ہمیں حیس (ایک خاص عربی طعام) کا ہدیہ بھیجا گیا ہے جو ہم نے آپ کے لیے سنبھال رکھا ہے۔آپ نے فرمایا ’’ادھر لے آؤ۔‘‘ طلحہ نے وضاحت کی کہ آپ نے صبح کو روزے کی نیت کی تھی مگر افطار کر لیا۔