Sunan Abi Dawood Hadith 2456 (سنن أبي داود)

[2456] إسنادہ ضعیف

یزید بن أبي زیاد ضعیف

وللحدیث شواھد ضعیفۃ عندالترمذي (731،732) وغیرہ

انوار الصحیفہ ص 91

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ،عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْحَارِثِ،عَنْ أُمِّ ہَانِئٍ،قَالَتْ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ-فَتْحِ مَكَّةَ-, جَاءَتْ فَاطِمَةُ فَجَلَسَتْ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللہِ ﷺ وَأُمُّ ہَانِئٍ عَنْ يَمِينِہِ،قَالَتْ: فَجَاءَتِ الْوَلِيدَةُ بِإِنَاءٍ فِيہِ شَرَابٌ،فَنَاوَلَتْہُ فَشَرِبَ مِنْہُ،ثُمَّ نَاوَلَہُ أُمَّ ہَانِئٍ فَشَرِبَتْ مِنْہُ،فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللہِ! لَقَدْ أَفْطَرْتُ وَكُنْتُ صَائِمَةً؟ فَقَالَ لَہَا: أَكُنْتِ تَقْضِينَ شَيْئًا؟،قَالَتْ: لَا،قَالَ: فَلَا يَضُرُّكِ إِنْ كَانَ تَطَوُّعًا.

سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ فتح مکہ کے دن سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں اور رسول اﷲ ﷺ کی بائیں طرف بیٹھ گئیں اور ام ہانی رضی اللہ عنہا آپ کی دائیں طرف تھیں۔بیان کرتی ہیں کہ خادمہ ایک برتن لے کر آئی ‘ اس میں مشروب تھا ‘ اس نے وہ نبی کریم ﷺ کو دیا تو آپ نے اس میں سے نوش فرمایا اور پھر ام ہانی کو دے دیا تو انہوں نے بھی اس سے پی لیا اور بولیں: اے اﷲ کے رسول! میں نے روزہ رکھا ہوا تھا اور توڑ لیا ہے۔آپ ﷺ نے پوچھا ’’کیا یہ قضاء کا روزہ تھا؟‘‘ انہوں نے کہا: نہیں۔آپ نے فرمایا ’’اگر یہ نفلی تھا تو کوئی حرج نہیں۔‘‘