Sunan Abi Dawood Hadith 2457 (سنن أبي داود)

[2457] إسنادہ ضعیف

زمیل مجہول (تقریب: 2036) وقال البخاري: ’’ولا یعرف لزمیل سماع من عروۃ ولا لیزید من زمیل ولا تقوم بہ الحجۃ‘‘ (التاریخ الکبیر 450/3)

وللحدیث شاہد ضعیف عند الترمذي (735)

انوار الصحیفہ ص 91

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ،حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ وَہْبٍ،أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ عَنِ ابْنِ الْہَادِ،عَنْ زُمَيْلٍ مَوْلَی عُرْوَةَ،عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ،عَنْ عَائِشَةَ،قَالَتْ: أُہْدِيَ لِي وَلِحَفْصَةَ طَعَامٌ،وَكُنَّا صَائِمَتَيْنِ فَأَفْطَرْنَا،ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فَقُلْنَا لَہُ: يَا رَسُولَ اللہِ! إِنَّا أُہْدِيَتْ لَنَا ہَدِيَّةٌ،فَاشْتَہَيْنَاہَا،فَأَفْطَرْنَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: لَا عَلَيْكُمَا, صُومَا مَكَانَہُ يَوْمًا آخَرَ.

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ‘ وہ بیان کرتی ہیں کہ مجھے اور حفصہ رضی اللہ عنہا کو کوئی کھانا ہدیہ بھیجا گیا جبکہ ہم نے روزہ رکھا ہوا تھا ‘ پس ہم نے روزہ توڑ لیا۔رسول اﷲ ﷺ تشریف لائے اور ہم نے ان سے عرض کیا: اے اﷲ کے رسول! ہمیں ہدیہ دیا گیا تھا اور ہمارا کھانے کو دل چاہا تو ہم نے روزہ افطار کر لیا۔رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا ’’کوئی حرج نہیں ‘ اس کی بجائے ایک روزہ رکھ لینا۔‘‘ ابوسعید بن الاعرابی کہتے ہیں کہ یہ روایت ثابت نہیں ہے۔