Sunan Abi Dawood Hadith 2478 (سنن أبي داود)
[2478]صحیح
شریک القاضي تابعہ شعبۃ عند مسلم (2594)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ وَعُثْمَانُ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ،قَالَا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ،عَنْ أَبِيہِ, قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِي اللہُ عَنْہَا عَنِ الْبَدَاوَةِ؟ فَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يَبْدُو إِلَی ہَذِہِ التِّلَاعِ،وَإِنَّہُ أَرَادَ الْبَدَاوَةَ مَرَّةً،فَأَرْسَلَ إِلَيَّ نَاقَةً مُحَرَّمَةً مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ،فَقَالَ لِي: يَا عَائِشَةُ! ارْفُقِي, فَإِنَّ الرِّفْقَ لَمْ يَكُنْ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا زَانَہُ،وَلَا نُزِعَ مِنْ شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا شَانَہُ.
مقدام بن شریح اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ بستی اور دیہات میں سکونت اختیار کرنا کیسا ہے؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ (کبھی کبھار) ان ٹیلوں اور میدانوں کی طرف چلے جایا کرتے تھے۔آپ ﷺ نے ایک بار باہر جانے کا ارادہ فرمایا اور میری طرف صدقہ کے اونٹوں میں سے ایک جوان اونٹنی بھیجی (کہ سواری کے دوران میں اس پر کچھ سختی کرنی پڑی) تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’عائشہ! نرم خوئی سے کام لو،نرمی جس چیز میں بھی آ جائے وہ مزین ہو جاتی ہے اور جس سے نکال لی جائے،وہ عیب دار ہو جاتی ہے۔“