Sunan Abi Dawood Hadith 2499 (سنن أبي داود)

[2499] إسنادہ ضعیف

وقال الذہبي: ’’عبد الرحمٰن بن غنم: لم یدرکہ مکحول فیما أظن‘‘ (تلخیص المستدرک 2/ 78،79)

انوار الصحیفہ ص 92

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ نَجْدَةَ،حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ،عَنْ أَبِيہِ يَرُدُّ إِلَی مَكْحُولٍ إِلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غُنْمٍ الْأَشْعَرِيِّ أَنَّ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ،قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ: مَنْ فَصَلَ فِي سَبِيلِ اللہِ فَمَاتَ أَوْ قُتِلَ, فَہُوَ شَہِيدٌ،أَوْ وَقَصَہُ فَرَسُہُ،أَوْ بَعِيرُہُ،أَوْ لَدَغَتْہُ ہَامَّةٌ،أَوْ مَاتَ عَلَی فِرَاشِہِ،أَوْ بِأَيِّ حَتْفٍ شَاءَ اللہُ, فَإِنَّہُ شَہِيدٌ, وَإِنَّ لَہُ الْجَنَّةَ.

سیدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا،آپ ﷺ فرماتے تھے ’’جو شخص جہاد کے لیے روانہ ہوا اور وفات پا گیا،یا قتل کر دیا گیا،تو وہ شہید ہے،یا اگر اس کو اس کے گھوڑے یا اونٹ نے گرا دیا ہو،یا کسی جانور نے کاٹا ہو،یا اپنے بستر ہی پر اسے موت آئی ہو،یا جس کسی کیفیت میں بھی اس کی وفات ہوئی ہو تو وہ شہید ہے اور بلاشبہ اس کے لیے جنت ہے۔‘‘